مٹھائیاں تقسیم کرنے سے گریز کرنا چاہیے

97

بظاہری طور پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو وزےر اعظم بنانے کےلئے حالات ساز گار دیکھائی دے رہے ہیں ملک میں تین مرتبہ وزےر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کرنے والے میاں نواز شریف پانامہ کیس میں نا اہل ہو چکے ہیں احتساب عدالت سے میاں صاحب مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو قید کی سزا کے علاوہ جرمانہ کیا جا چکا ہے اس فیصلے سے سب سے زیادہ خوشی اور خود اعتمادی تحریک انصاف کے کارکنوں میں دیکھی جا رہی ہے الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کی لندن کی رہائش گاہ کے سامنے ان کے گھر کے افراد پر انڈے برسائے گئے ہیں پاکستان میں پی ٹی آئی کی طرف سے مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں اس طرح نواز شریف فیملی کو بظاہری طور پر سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کامیاب ہو رہی ہے دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق مممتاز بینکار حسین نواحی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے یہ سب کچھ 25جولائی 2018کے انتخابات سے قبل ہو رہا ہے مسلم لیگ کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف عمران خان کےلئے بڑا چیلنج نہیں ہے ، وہ میاں نواز شریف کی طرح اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنا چاہتے ہیں، بلکہ مفاہمت سے چلنا چاہتے ہیں وی قومی حکومت کے قیام کے حامی ہیں ان کا معتدل اور غیر مذاہمتی بیانیہ عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکا ہے بلاول بھٹو زرداری بھی سندھ کی حد تک کامیابی سے انتخابی مہم چلا چکے ہیں مگر پنجاب میں داخلے کے ساتھ اس مہم کی نویت بدل گئی ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے پنجاب میں بلاول بھٹو کے جلسے جلوسوں کو دیکھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کے کچھ الیکٹ
ایبل تحریک انصاف اور گرینڈ الائنس میں شامل ہونے سے ووٹ بینک کا گراف گرا ہے۔ اب اس کے امید وار شائد ہزاروں کی لیڈ سے نہیں جیت سکیں گے جنوبی پنجاب کے الیکٹ ایبل کے تحریک انصاف میں شامل یا آزاد امید وار کے طور پر حصہ لینے سے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو خاصی گزند پہنچی ہے جبکہ مسلم لیگ کے امید واروں کی ٹکٹوں کی واپسی یا پی ٹی آئی کے امید واروں کے حق میں دستبرداری کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان میں پی ٹی آئی کا کچھ گراف بڑھا ہے پختون خواہ میں بھی تحریک انصاف کےلئے اے این پی پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کی طرف سے کوئی چیلنجز نہیں ہیں عام انتخابات میں آزاد امید وار کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کی طرف رخ کرینگے احتساب کے نعرے اور خفیہ اداروں کی معاونت کی وجہ سے تمام صورتحال پی ٹی آئی کی فیور میں جا رہی ہے مگر احتساب اگر بلا امتیاز نہ ہو اور دائریہ محدود رہے تو حالات کی تبدیلی کے لئے سیاسی معروضیت جنم لے سکتی ہے نواز شریف اور مریم نواز کی سزا کے بعد اور لاہور ائیر پورٹ کے بعد آمد اور استقبال سے کئی ہنجانی کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں مزاحمت کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کا کبھی پر جوش اور جار خانہ رویہ سامنے نہیں آیا ہے اب جبکہ مسلم لیگ ن کے صدر میاںشہباز شریف مفاہمت کی بات کرتے ہیں اور میاں نواز شریف محاذ آرائی کا بیانیہ اختیار کر سکتے ہیں تو ان مخالف بیانیوں سے کیا سیاسی حاصل ہوگا پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کی لیڈر شپ کی احتساب عدالت سے سزاوں کے حوالے سے انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اختیا ر کیا ہے اور کہا ہے اس کی نا اہلی اور سزا پر خوش نہیں ہونا چاہیے اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر دباﺅ اور سزا کے مختلف حربوں کے ذریعے دونوں جماعتوں کی سیاسی بالا دستی ووٹ کی عزت عوامی حقوق اور مفادات کے ایشو پر اکٹھی ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں جاری احتساب اور یکطرفہ سیاسی عمل کے حوالہ سے ایک جیسے تحفظات رکھتی ہیں پی ٹی آئی کے حمایتوں کے بقول پہلی دفعہ پاکستان میں طاقتوروں کا احتساب ہورہا ہے یاد رہے کرپشن پاکستان میں انفرادی معاملہ نہیں ہے بلکہ غیر مساوی دولت کی تقسیم کی وجہ سے ہے۔ اس نظام میں طاقتوروں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے دولت اور جائیدادوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس عمل میں سیاست دانوں کے علاوہ جرنیل اور بیورو کریٹس بھی شامل ہیں مریم نواز کے بقول پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی نے جمہوریت کے خلاف جاری سازشوں کا رستہ روکنے والی پر اسرار قوتوں کے راستے میں مزاحمت کی ہے وہ پاکستان میں ریاستی اسحتصال اور جار خانہ رویوں کےخلاف صحافیوں وکلاءذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدو جہد کو بھول گئی ہیں۔ آج بائیں بازو کے مزاحمتی بیانیہ کو کسی حد تک مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنا لیا ہے مگر اس کا موجودہ نظام سیاست اور مفادات کے حوالے سے ممکنہ اہداف حاصل کےے جا سکتے ہیں مگر عوام کے بنیادی حقوق اور بہتری کےلئے کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ طاقت کے حقیقی سر چشموں اور کرداروں کا کبھی احتساب نہیں ہوا ہے جبکہ سیاست دانوں کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جنہیں اقتدار تو دے دیا جاتا ہے مگر داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یوں ہی سیاست دانوں کو زیادہ اختیارات دے دیا جائے تو اس کو مخالفین استعمال کرتے ہیں پاکستان میں سالہال تک وزےر اعظم اور حکومتوں کو بنانے اور ہٹانے کا عمل جاری رہا ہے 1988سے 1999تک سیاسی قیادتوں کے درمیان مختلف منافقتوں کے ذریعہ سیاسی انتشار میں اضافہ کیا گیا ہے پروےز مشرف نے نا نہاد احتسابی نظام کی دھمکیوں کے ذریعے پیپلز پارٹی کے ارکین کی ہمدردیاں تبدیل کر کے وزےر اعظم کو منتخب کروایا تھا 1997میں نواز شریف نے دو تہائی اکثریت سے احتساب بیورو بنانے کے بعد پیپلز پارٹی کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں اور عدالتی سازش کے ذریعے جسٹس عبدالقیوم سے بے نظیر بھٹو کو سزا دلانے
کی کوشش کی گئی مگر ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کو سپریم کورٹ میں پیش کرنے سے سزا دلانے کا کام ادھورا رہا پاکستان میں ناجائز اثاثے بنانے کے الزامات کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے کہیں پر سر محل کا تذکرہ تھا آج میاں نواز شریف کے لندن فلیٹس اور جائیدادیں زےر بحث ہیں جس کی نشاندہی حامد میر نے 1997میں روز نامہ پاکستان میں شائع ہونے والے کالم میں کی تھیں جس میں بے نظیر نے الزام لگایا تھا کہ میاں نواز شریف کی جائیدادیں لندن میں موجود ہیں میاں صاحب کو اس بیان کے خلاف دعویٰ کرنے کا مشورہ دیا گیا مگر مسلم لیگ کی لیڈر شپ نے ان الزامات کو غلط قرار دیا گیا مگر اب اس حوالے سے کچہ چٹھہ سامنے آ چکا ہے میاں نواز شریف نے ہمیشہ عدالتی اداروں سے فوائد حاصل کےے ہیں اب کچھ معاملات ان کے خلاف جا رہے ہیں مزاحمتی بیانیہ سامنے آ گیا ہے مشرف کو پاکستان سے بھاگنے کو سپریم کورٹ پر ڈال دی گئی ہے مگر میاں صاحب نے کبھی اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا ہے اب میاں نواز شریف کی سزا پریشانی اور بیانیہ کی حمایت کرنے والوں کا امتحان شروع ہو چکا ہے کیونکہ غلط بیانیوں اور عوام کے ساتھ کےے ہوئے جھوٹے وعدے بے نقاب ہو چکے ہیں عمران خان کی سیاسی اٹھان کے عہد میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں سوال یہ موجود ہے کہ وہ اس رخ کو سیاسی ہیجان میں تبدیل کر دیں جس سے کم از کم سیاسی انتشار تو پیدا ہوگا حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے ہیں ان میں اتار چڑاﺅ آتے رہتے ہیں احتساب کے قابل لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہیں ان سب کا احتساب ہونا چاہیے اگر سیاست اپنا درست رویہ اختیار نہیں کرتی ہے تو میاں نواز شریف کا بیانیہ مزید مقبول ہوگا، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کتنی نشستیں حاصل کرے گی اس کی صورتحال 25جولائی کے بعد واضح ہو جائے گی جس کا دار و مدار مسلم لیگ کے کارکنوں اور لیڈر شپ کی حرکیات کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس میں مزاحمت اور مفاہمت کے بیانیہ یکجا ہوتے ہوئے نہیں محسوس ہو رہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.