”یوم دفاع پاکستان پر وزیر اعظم اورآرمی چیف کا خطاب“

28

پاکستان کے سپہ سالار اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوم دفاع کی مرکزی تقریب میں مہمانوں کی شمولیت کے وہ تہہ دل سے ممنون ہیں یوم دفاع پر ملک بھر میں ایمان ، اتحاد اور تنظیم کا مظاہرہ کیا گیا،اور یہی جذبہ ہمیں منزل مقصود پر لے جائے گا،جبکہ جی ایچ کیو میںیوم دفاع کی مرکزی تقریب میں اپنے روائیتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بنا پنپ نہیں سکتی،دہشتگردی کے خلاف ہم نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی، ہماری جنگ اب بھوک، افلاس اور ناخواندگی کے خلاف ہو گی جسے جیتنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے، جبکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کسی کی بھی جنگ میں نہیں پڑیں گے،سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں، سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں،فوج میں میرٹ کا سسٹم ہے، اب باقی اداروں کو بھی مضبوط بنائیں گے،انہوں نے کہا کہ پانی بجلی کے ساتھ ساتھ قرضے برے مسائل ہیں، یہ ملک اٹھے گا، ہم ایک قوم بنیں گے،اور یہ تب ممکن ہوگا جب کمزور طبقہ اور پسے ہوئے طبقوں کو برابری کے حقوق ملیں گے۔ہم نے اپنے گزشتہ آرٹیکل میں بھی یہ عرض کیا تھا کہ ”یوم دفاع پاکستان 1966سے پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے، کیونکہ چھ ستمبر 1965کو بھارت نے بغیر کسی وارننگ کے رات کی تاریکی میں چھپ کر پاکستان پر کئی جانب سے حملہ کر دیا، لہٰذا تب سے پاکستانی قوم 6ستمبر کو ہر سال یوم دفاع پاکستان مناتی ہے، جہاں اس روز جنگ ستمبر
کے شہیدوں اور غازیوں کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے،وہاں یہ عزم بھی دہرایا جاتا ہے کہ پاکستانی عوام پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور وطن عزیز پر جاں نچھاور کرنے والوں کے لئے اپنا تن من دھن نچھاور کرنے کے لئے تیار ہےں۔ شہیدوں اور غازیوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، اور ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، کیونکہ وہ قومیں جو اپنے مشاہیر اور ہیروز کو بھولتی نہیں وہی زندہ قومیں کہلاتی ہیں، وہ اس لئے کہ دنیا میں ملک یا ریاستیں اپنے ہیروز یا مشاہیر کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں، شیکسپیئر کو اک عالم جانتا ہے مگر شاید کوئی کوئی ہی ایسا ہو جو یہ جانتا ہو کہ شیکسپیئر کے دور میں برطانیہ کا بادشاہ کون تھا، ہم نے خود کئے مرتبہ برطانوی یاترا کے دوران گوروں سے یہ سوال کیا مگر ان میں سے چند ہی یہ بتا سکے کہ اس وقت برطانیہ کا بادشاہ کون تھامگر شیکسپیئر کو سب جانتے تھے۔“اب پچھلے چند سالوں (غالباً2014)سے یوم دفاع کی مرکزی تقریب کو بہت پھیلا لیا گیا ہے وگرنہ چھ ستمبر کو جی ایچ کیو کے ساتھ آڈیٹوریم میں یہ تقریب ہوا کرتی تھی، مگر اب یہ جی ایچ کیو کے باہر منعقد کی جاتی ہے ، زندگی کے ہر شعبے سے لوگوں کو مدعوکیا جاتا ہے، سفارتکار بھی اس میں مدعو ہوتے ہیں، غالباً سابقہ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے یوم دفاع پاکستان کی اس تقریب سے خطاب کی روایت ڈالی، تب سے پاکستان کے سپہ سالار اعظم کا خطاب ایک خاص اہمیت حاصل کر گیا ہے، آرمی چیف کی اس تقریر کو ”عسکری ڈاکٹرائن“ سے تعبیر کیا جانے لگا ہے، کیونکہ اس میں اس ریاستی ادارے کے عزائم اور سوچ کی نشاندہی کی جاتی ہے، سول اور ملٹری تعلقات سے دنیا کو آگاہ کیا جاتا ہے، گزشتہ سال پاکستان کے سپہ سالار اعظم کا خطاب خصوصی اہمیت کا حامل تھا، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ ”پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں، لہٰذا اب پاکستان کے ”ڈو مور“ کا وقت نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ڈو مور کرنے کا وقت ہے۔انہوں نے کہاتھا کہ پاکستان پر مسلط کی جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے،جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے بلاتفریق کاروائی نہیں کی،اگر ایسا ہے تو پھر کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا،اتنے محدود وسائل کے ساتھ دہشتگردی کی خلاف اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی طاقتیں اگر دہشتگردی کی جنگ میں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں مل کر ایک ایسا پاکستان بنانا ہے، جہاں طاقت کا استعمال صرف ریاست کے ہاتھ میں ہواور ادارے مضبوط ہوں، انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کو دہشتگردی اور کرپشن سے پاک پر امن پاکستان دینا ہو گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے قوم کو یقین دلایاتھا کہ پاکستانی افواج وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بلوچستان میں بے چینی پھیلانے والے دشمن پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔“
پاکستان کے سپہ سالار اعظم کا یوم دفاع پر خطاب اس لئے اہمیت حاصل کر گیا تھا کہ اسے سول ملٹری تعلقات کی روداد ، سول حکمرانوں کی جانب سے قومی سلامتی کے 20نکاتی ایجنڈے پر تعاون اور عمل درآمد میں اٹھائے گئے اقدامات اور سنجیدگی کا پتہ چلتا تھا، اس بات کی صداقت صرف اس ایک بات سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ” ڈو مور“سے انکار اور امریکا سے کسی قسم کی بھی مالی یا حربی امداد لینے سے صاف انکار ملک کے وزیر اعظم نے نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل قمر
جاوید باجوہ نے کیا تھا،اس بار روایت سے ہٹ کر سپہ سالار اعظم نے وزیراعظم عمران خان سے ہمنوائی نبھائی ہے، اوربھوک، افلاس اور ناخواندگی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ وہ کمزور طبقوں اور پسے ہوئے لوگوں کو برابری کے حقوق دلا کر دم لیں گے۔یقینا یہ ایک خوشی کی بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کو کسی قسم کا بھی احساس برتری یا کم تری نہیں، 5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف سے ملاقات میں بھی عسکری اور سول قیادت نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی برادری میں امریکہ کی جانب سے پھیلائے ہوئے اس تاثر کو باطل قرار دے دیا کہ پاکستانی سول قیادت ہم سے کچھ کہتی ہے اور عسکری قیادت کچھ۔کیونکہ پاکستانی سول اور ملٹری قیادت نے امریکی وفد سے جوائنٹ ملاقات کی، علیحدہ علیحدہ نہیں۔یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے کہ پاکستانی قیادت نے مان لیا ہے کہ پاکستاان کا دشمن نمبر ایک بد امنی ہے اور اس کا مسئلہ نمبر ایک بھوک، افلاس اور نا خواندگی کا خاتمہ ہے، یقینا یہ احداف 70سال پہلے طے ہوجانے چاہئیں تھے، مگر دیر آید درست آید کے مصداق یہ ڈھارس تو بندھی کہ نشان منزل تو ملاوگرنہ ہم نے 1980میں کہا تھا کہ
وہ جس سے ہو تعین منزلوں کا
ہمیں ایسا نشاں ہی کب ملاہے
اب یقین سا ہو گیا ہے کہ
ملی ہے راہ تو منزل پہ جا کے دم لیں گے
اور آخر میں جنرل جمشید گلزار کیانی کا استدلال یاد کرنا بڑا ضروری ہے، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ بھارت ہم سے دس گنا بڑا ہونے ، سامان حرب اور دیگر وسائل میں برتر ہونے ، پانچ گنا بڑی فوج ہونے کے باوجود پاکستان کو ختم نہیں کر سکا۔۔۔۔۔؟
آپ بھی سوچیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.