اپنی لڑائی کی تے پرائی کی!

21

وزیرِاعظم عمران خان نے یومِ شہدا و دفاعِ پاکستان کے موقع پر جی ایچ کیو کی مرکزی تقریب سے خطاب کے دوران ایک وعدہ یہ بھی کیا کہ ” پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا“۔اس پر مجھے ماسی مٹھن یاد آ گئی۔ جن کا ماشا اللہ ساتواں بچہ ہونے لگا تو دردِ زہ کے دوران لیبر روم سے آواز آ رہی تھی ”اب کے میں کبھی کولے نہ لگوں“۔ یعنی اب میں کبھی ( اس کے ) پاس نہ پھٹکوں گی۔ اور اگلے برس پھر آٹھواں بچہ ایک بار پھر ماسی مٹھن کے اسی فریادی عہد کے ساتھ دنیا میں تشریف لے آیا۔خان صاحب نے بھی شاید معصومیت میں کہہ دیا کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا۔ خان صاحب بھی وقت کے ساتھ ساتھ جان جائیں گے کہ سیاست و سفارت کاری کے معاملے میں ہر جواب اوپن رکھا جاتا ہے۔ قطعیت کے ساتھ کوئی ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے وقت پڑنے پر نبھانا مشکل ہو جائے۔ کل کس نے دیکھا اور خان صاحب کے بعد آنے والے کا کیا پتہ اور خود خان صاحب کا بھی کیا پتہ کہ کل کس مجبوری میں کون سا وعدہ توڑ کے یو ٹرن لینا پڑ جائے۔ اور اس بارے میں خان صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یو ٹرن لینا کس قدر تکلیف دہ عمل ہے۔” کوئی بھی جنگ شروع ہونے تک فیصلہ سازوں کے قابو میں رہتی ہے۔ شروع ہو جائے تو فیصلہ ساز جنگ کے قابو میں ہوتے ہیں “۔ اگر اس ضرب المثل کی عملی تعبیر دیکھنی ہو تو افغان
جنگ کے پاکستان کے ساتھ رشتے میں دیکھ لو۔ پاکستان کی عمر تہتر برس ہے اور افغان جنگ کی عمر چالیس برس۔ گویا پاکستان کی ساٹھ فیصد زندگی افغان لڑائی اور اس کے اثرات تلے گزر گئی اور گزر رہی ہے۔مگر ہم بھی کتنے سادے ہیں کہ انیس سو اڑتالیس انچاس کی چھ ماہ کی جنگِ کشمیر، سترہ دن کی پینسٹھ کی جنگ، ڈیڑھ ماہ کی اکہتر کی جنگ اور چار ماہ کے کرگل ایڈونچر کو تو بھرپور جنگیں سمجھتے ہیں مگر چالیس برس سے اپنی ہی زمین پر لڑی جانے والی افغان لڑائی کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتے۔ بلکہ اسے ہم کوئی جنگ ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جتنی اقتصادی، سماجی، جانی و مالی تباہی و عسکری نقصان پاکستان کو افغان جنگ نے پہنچایا وہ ان چاروں جنگوں سے ہزار گنا زیادہ ہے جنھیں ہم تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پچھلے چالیس برس سے ہم جس جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ہم پر امریکا اور سعودی عرب وغیرہ نے نہیں تھوپی بلکہ ضیا الحق نے آگے بڑھ کر خریدی اور پھر باقی دنیا نے اس جنگ کو پاکستان پر بطور بار برداری لاد دیا۔ ہم نے دنیا کی پہلی آوٹ سورس جنگ خریدی اور پھر اوگے اوٹ سورس کرنی شروع کر دی اور انھوں نے مزید اگے کرائے پر چلانا شروع کر دی۔ اب تو خیر سے یہ ایسی اربوں کھربوں کی صنعت بن چکی ہے جس پر لاکھوں لوگوں کا تکیہ ہے۔
یہ پہلی جنگ تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف جنگ نہ رہی بلکہ اسے طرح طرح سے پیکیج کر کے مارکیٹنگ کی گئی۔ جس طرح بکرے کی ران، پٹھ، گردن، سری پائے، کلیجی گردے، اوجھڑی اور کھال الگ الگ بیچے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلسل جاری افغان جنگ کے پیٹ سے منشیات کی ایک پوری ایگرو بیسڈ انڈسٹری، آڑھتی اور فروخت کرنے والوں کو ملا کر ڈرگ ایمپائر وجود میں ائی۔ اسی ایمپائر کے چچیروں نے اسلحے کا کام بھی شروع کر دیا اور پھر اس ایمپائر نے جو کالا دھن پیدا کیا وہ مختلف اداروں اور سیاست و معیشت میں بٹ بٹا کر جذب ہوتا چلا گیا۔انتہا پسندی کو آکسیجن اسی سرمائے سے ملی اور آج انتہا پسندی اپنی معیشت میں خود کفیل ہے۔ اس بٹ بٹائی کے نتیجے میں ایک نئی پولٹیکو اکنامک کلاس وجود میں ائی جس نے جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے بزنس کو ایک ارٹ فارم کی شکل دے دی۔ اور ہمیں نئی اصطلاحات، نئے امکانات، نئے مستقبل کے ڈزنی لینڈ کی طرف لگا دیا تاکہ پاکستان کو چالیس برس سے درپیش سب سے بڑی اور مسلسل جنگ کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں دیکھنے کے بجائے کوئی باآلا اس کا ایسا میورل نہ بنا لے جس میں ہر واقعہ، ہر کردار اور ہر مفاد ایک دوسرے سے جڑا ہوا نظر آجائے۔ میورل سوالات کو جنم دے گا اور سوال کتنا بھی معصوم ہو لیکن اپنے جوہر میں ہوتا خطرناک ہی ہے۔عمران خان جب کہتے ہیں کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ پاکستان آیندہ کبھی کسی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا تو کیا انھیں احساس ہے کہ اس ایک سیدھے سادے بے ضرر سے وعدے کو ریاض، دلی، تہران، کابل، بیجنگ اور واشنگٹن کس طرح اپنے اپنے مفاداتی عدسے لگا کے کتنی سنجیدگی یا غیرسنجیدگی سے دیکھ رہے ہوں گے؟
اگر اس برے میں سے اب تک کچھ اچھا ہوا ہے تو شاید یہ کہ پاکستان اب زمانے کی مار کھا کھا کے سیانا ہو گیا ہے۔ پہلے وہ کسی کام کی قیمت طے کرنے کے لیے سودے بازی نہیں کرتا تھا اور موٹے موٹے حساب پر
مان جاتا تھا۔ اب وہ فی اسکوائر فٹ فی گھنٹہ چارج کرنا سیکھ گیا ہے۔ کوئی ملک بھلے سپرپاور ہی کیوں نہ ہو اپنی جنگ خود نہیں لڑنا چاہتا۔ بلکہ چاہتا ہے کہ کوئی پیسے لے کر اس کی طرف سے لڑ لے۔ پاکستان بھی وقت کے ساتھ ساتھ سپرپاورز کی یہ تکنیک سیکھ گیا ہے اور اس نے اپنے اہداف بھروسے کی تنظیموں کو ایک عرصے سے آوٹ سورس کرنے شروع کر دیے ہیں۔ مگر پاکستان کو ابھی اس تکنیک میں مزید مہارت حاصل کرنا باقی ہے کہ کام نکالنے کے بعد کسی بھی پارٹی کو نیوٹرلائز یا ناکارہ کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ کسی اور سے مال پکڑ کے پاکستان پر ہی نہ پلٹ جائے۔ جیساکہ حالیہ برسوں میں کچھ تلخ تجربات ہوئے ہیں۔خان صاحب کا یہ ارادہ اپنی جگہ نہایت مثبت ہے کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں حصہ دار نہیں بنے گا۔ مگر اس وعدے پر قائم رہنا کسی بھی کمزور ملک کے لیے آسان نہیں۔اگر آپ کی آمدنی کا مستقل اور قابلِ اعتماد ذریعہ نہ زراعت ہو، نہ صنعت، نہ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے آنے والا زرِ مبادلہ۔ اگر آپ کا ٹیکس بیس مضبوط نہ ہو، اگر اپ کا خرچ آپ کی بچت سے دس ہاتھ اگے ہو، اگر اپ واجبات کی عدم وصولی، لیکیج، کرپشن اور مصلحت امیز احتساب بازی کے عادی ہوں اور اس کے نتیجے میں ہر ان بڑھتے خسارے کو سینگوں سے پکڑنے کے بجائے چند دن اور ٹالنے یا اوگے ہنکالنے کے لیے کشکول لے کر قرض، خیرات کی تلاش یا پھر قومی زیورات رہن رکھوانے کو بھی عار نہ سمجھیں تو پھر اپ کچھ بھی عزم ظاہر کرتے رہیں ا?پ کی ریاست اور اس کے ادارے برائے فروخت یا ترغیب و تحریص کے اسیر ہی رہیں گے۔ اس کے بعد ” نوکر کی تے نخرا کی۔ اپنی لڑائی کی تے پرائی کی؟ “۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.