دُنیا کا غریب ترین صوبہ بلوچستان

85

±اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے حالیہ جاری کردہ دنیا بھر کے غریب ترین صوبوں کی فہرست میں قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان کا نام پہلے نمبر پر آنا نہ صرف صوبے کے باسیوں کےلیے اضطراب کا باعث بنا بلکہ رپورٹ نے حُکمرانوں کے ترقی کے دعوو¾ں کے پو ل بھی کھول دیئے۔یہ رپورٹ حُکمران او ررعایا دونوں سے سنجیدگی کے ساتھ سرجوڑ کر اپنے حالات پر غور کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔غربت اور پسماندگی اس صوبے کا مقدر نہیں ۔ علامہ اقبالؒ کا قول ہے کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا نہ ہو خیال جس کو اپنے آپ بدلنے کا خیال، اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمام تر وسائل زندگی فراہم کئے رکھے ہیں ۔ طویل ترین سمندر وساحل سمندر ،معدنیات سے مالا مال گنے پہاڑ، سونا اُگلتا زرخیز زمین، صحرا اور چٹیل میدان، فصل دوست چاروں موسم اور وسیع رقبہ اس صوبے کے مکینوں کی قسمت بدلنے کیلئے از بس کافی ہیں ۔گو کہ مرکز گیس کی رائلٹی کی مد میں ۰۰۶ ( چھ سو) ارب روپے بلوچستان کا مقروض ہے شوکت عزیز کی وزارت عظمیٰ کے دوران
گیس کی رائلٹی کا معاملہ زیر بحث آیا تو وفاق نے واجب ا لادا چھ سو ارب روپے کی بجائے غالباً دس ارب روپے قسطوں میں دینے کا اعلان کرکے مدعا نمٹا دیا تھا تاہم اس کیس کو وفاق نئے سرے سے زیر غور لاکر اس کے بقایاجات کی مد میں فنڈز کی تواتر کے ساتھ فراہمی کو ممکن بنائے اس حوالے سے مرکز اور صوبے کے درمیان نئے معاہدے کی تشکیل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اس مضمون میں صوبے اور مرکز کے درمیان موجود تاریخی شکوے شکایات کی بحث پر مزید نمک چھڑی کے بجائے صوبے میں دستیاب وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے اپنے بے شمار مسائل پر قابو پانے کا جائزہ لیں گے۔بلوچستان کا سینئر ترین مایہ ناز صحافی وکالم نگار قبلہ مقبول احمد رانا لکھتے ہیں ۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جام میر غلام قادر خان مرحوم وزیراعلیٰ ہوا کرتے تھے اور جنرل ضیاءالحق مرحوم ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار میں آئے تھے اور کم و بیش ایک عشرہ تک وہ سیاہ و سفید کے مالک رہے کوئٹہ آئے تو گورنر ہاﺅس میں ایک تقریب تھی جس میں گورنر، وزیراعلیٰ، وزرائ، سیاسی زعماءکرام، قبائلی عمائدین اور ممتاز شہری شخصیات کی آچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی۔ ایک موقع پر جنرل ضیاءنے ایک مرحوم پشتون سردار کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کیا جب وہ قریب آئے تو اس عاجز سے جنرل ضیاءنے کہا، یہ تمہارے سردار ہے، میں نے اُنہیں ٹیکسٹائل کے پرمٹ وغیرہ دئیے ہیں ، لیکن انہوں نے بارہ کروڑ روپے میں وہ پرمٹ کسی میمن ساہوکار کو بیج دیئے ہیں ، حالانکہ انہوں نے کپڑے کی ملیں بلوچستان میں لگانے کا وعدہ کیا تھا، ان کے ساتھ ہی قریب کھڑے ہوئے وزیراعلیٰ جام غلام قادر مرحوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دیکھو میں نے انہیں اتنے پیسے دیئے ہیں کہ ان سے یہ صوبے کی ایک آدھ سڑک سونے کی بنا سکتے تھے۔جب راقم نے محسوس کیا کہ جنرل ضیاءمجھ عاجز کو گواہ بناکر یہ باتیں کررہے ہیں میں موقع پاتے ہی وہاں سے کھسک گیا تاکہ دوسروں کی خطاﺅں کی شہادت کا سزاوار نہ بن جاﺅں ۔
یاد رہے میر جام غلام قادر موجودہ وزیراعلیٰ میر جام کمال کے دادا تھے قبل ازیں میر جام کمال کے والد محترم میر جام یوسف بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان رہے ہیں یہ اس خاندان کی تیسری نسل کی وزیراعلیٰ شپ ہے۔ دن بدلے، ایام گزرے، حُکمران خاندان باریاں لیتے رہے،خاندان پشت درپشت حُکمران بنے مگر غریب کے حالات نہیں
بدلے ، ان کے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے اب حالات اس نہج پر پہنچاگئے ہیں کہ ہمارا یہ خوبصورت صوبہ دنیا کے غریب و بد صورت صوبوں کی فہرست میں پہلی پوزیشن کا اعزاز سینے پر سجائے خجالت کے الم میں گردن جھکائے کہٹیرے میں لاکھڑا کیا ۔ ہر چند کہ جنرل ضیاءجیسے بدترین امروں کو ہم سے ہماری ترقی کا جواب طلبی کا کوئی حق نہیں نہ آمروں کو جمہوری حُکمرانوں کے کمزوری سے اقتدار پربراجماں ہونے کا حق پہنچتا ہے تاہم جمہوریت کے ٹھیکداروں کو بھی کُچھ ڈیلیور کرنے کیلئے ا پنے گریبان میں جھانکنا چاہئیے۔ سوشل میڈیا پر میر جام کمال کے خداپرستی اور کفایت شعاری کے ویڈیوز وائرل ہوچکے ہیں اور مرکز میں بھی فلاحی ریاست کا تصور لیے عمران خان کی کفایت شعاری اور سادگی کے چرچے ہیں ۔ بعید ازقیاس نہیں کہ تمام تر غربت و مسکنت اور معاشی ناہمواری کفایت شعاری اور شاہانہ اخراجات کم کرکے قابوکیا جاسکے۔بشرطیکہ نیتوں میں فتور نہ ہوبہر کیف اعمال کا دارمدار نتوں پر ہے۔بلوچستان کے چہرے سے بدنامی کایہ بدنما داغ مٹانا اور مرکز کا بلوچستان کے بارے میں یہ کہناکہ جو کُچھ ملتا ہے وہ صوبے کے حُکمران کھا جاتے ہیں عوام پر خرچ نہیں کرتے یہ تاثُر عمل سے زائل کرنا میر جام کمال کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت کیلئے چیلنج بھی ہے اور کُچھ کردیکھانے کا موقع بھی فراہم کرتاہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.