بلوچستان کو معاف ہی کر دیں

30

آغا نیاز مگسی

 

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ملک کا 43 فیصد رقبہ بلوچستان پر مشتمل ہے۔ قدرتی وسائل کے لحاظ سے بھی مالامال۔ سمندری ساحل بندرگاہیں مچھلیاں باغات کاریزات چشمے جھیل آبشاریں پہاڑیں کوئلہ سنگ مرمر سونا چاندی تانبہ تیل گیس و دیگر معدنیات یہاں وافر مقدار میں ہیں۔مگر شاید بدقسمتی ایسی ہے کہ بلوچستان یہ سب کچھ کے باوجود پسماندگی اور محرومیوں کا دوسرا نام ہے۔ یہاں کے شہریوں کی اکثریت غریب اور مفلوک الحال بلکہ بہت سے غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نہ پانی نہ بجلی نہ گیس نہ روزگار کے ذرائع امید اور نا امیدی کے درمیان زندگی گزر رہی ہے ایک معمولی آبادی امیر کبیر اور خوشحال بلکہ عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہے۔ ایک مخصوص آبادی متوسط طبقہ اور سفید پوشوں پر مشتمل ہے کبھی خوش کبھی مایوس مگر پھر بھی زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے۔ گھر کا چولھا جیسے تیسے چل رہا ہے لیکن بدقسمت افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے بڑی مشکل سے گھر کا چولھا جلتا ہے ورنہ اکثر سوکھی روٹی پر گزارا ہوتا ہے۔ امیر صوبہ کے غریب لوگوں کی حالت
قابل رحم ہے۔ دل گردے یرقان جگر اور کینسر وغیرہ کی بیماریاں جیسے تقدیر کی طرح جہیز میں ملی ہوئی ہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات جیسے کتابی اور افسانوی باتیں ہیں یہ ہے بلوچستان کے عام شہری کے حالات زندگی کی ایک ہلکی سی جھلک ورنہ یہ تصویر بڑی بھیانک اور خوفناک ہے۔بلوچستان کے لوگ پاکستان سے بہت محبت کرنے والے ہیں۔ انہوں نے تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کے بعد اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت کو پاکستان پر قربان کر کے پاکستان میں شامل ہونے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک اور فیصلے میں خان آف قلات احمد یار خان کے ساتھ ساتھ اس وقت کے جوانسال نواب اکبر خان بگٹی بھی پیش پیش تھے میر غوث بخش خان بزنجو کو پاکستان سے بڑے خدشات اور تحفظات تھے مگر ان کو بھی آمادہ اور قائل کر لیا گیا۔ بلوچستان کے لوگ قائد اعظم اور محترمّہ فاطمہ جناح کا بہت بڑا احترام کرنے والے ہیں ان کو جتنی عزت اور احترام بلوچستان اور بنگال میں ملا اتنا کہیں اور نہیں ملا۔ افسوس یہ کہ بنگال اور بلوچستان کو اس کے بدلے غربت مفلسی پسماندگی بدسلوکی ملی۔ بلوچستان کی پہلی منتخب عوامی حکومت جس کے وزیر اعلیٰ سردار عطا ? اللّٰہ مینگل تھے اور گورنر میر غوث بخش بزنجو تھے۔ اس حکومت کو ایک سال بھی چلنے نہیں دیا گیا۔ اس وقت کے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے 9 ماہ کے بعد ہی بلوچستان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر بنا کر فوجی آپریشن شروع کر دیا تمام بلوچ قائدین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور یہ سب نیپ ( نیشنل عوامی پارٹی) شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ عوامی حکمران ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی منتخب عوامی حکومت کو ختم کیا، فوجی آپریشن کیا اور نیپ کی قیادت کو پابندِ سلاسل کیا مگر فوجی سربراہ جنرل ضیا ءالحق نے تمام بلوچ رہنما?ں کو رہا کر دیا اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے کافی اقدامات کیے۔ سیاسی حالات اور ملکی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں لیکن بلوچستان کے عام شہری کی قسمت میں مثبت اور خوشگوار تبدیلی ابھی تک نہیں آئی۔وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا جس میں بلوچستان کو بہت حصہ دینے اور ترقی و خوشحالی کے خواب دکھائے گئے۔ اس دوان کچھ باخبر حلقوں نے انکشاف کیا کہ اس منصوبے میں بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے مگر صوبائی حکومت اس کی تردید کرتی رہی۔ اب جب کہ 2۔ 18 کے عام انتخابات میں جام کمال خان کی سربراہی میں بلوچستان کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ ایسے میں جام حکومت نے یہ تشویشناک بلکہ افسوسناک انکشاف کیا
ہے کہ سی پیک منصوبے میں بلوچستان کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں ہے۔ اس انکشاف کے بعد اہلِ بلوچستان میں تشویش اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ماضی میں ہر حکمران نے بلوچستان کو نظرانداز اور مایوس ہی کیا ہے۔ البتہ جنرل ایوب خان نے بلوچستان کو پٹ فیڈر کینال جیسا عظیم تحفہ دیا جس سے نصیرآباد کے عوام زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی آ گئی لیکن اب گزشتہ 8 سال سے پانی کا پورا حصہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ ویسے کبھی جنرل مشرف نے کبھی آصف زرداری نے بلوچستان کے عوام سے ماضی کے حکمرانوں کی زیادتیوں اور غلطیوں کی معافی مانگی ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی ختم کرنے کی باتیں کی ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان نے بھی ایسی ہی باتیں اور وعدے کیے ہیں۔ نواز شریف کے دور میں تو ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ عمران خان ابھی نئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کچھ کرتے ہیں یا یہ بھی دیگر حکمرانوں کی طرح طفل تسلیوں میں ٹالتے رہتے ہیں۔ اگر بلوچستان کو اس کے پانی کا پورا حصہ دیا جائے کچھی کینال کو مکمل کیا جائے اور وفاقی محکموں میں ملازمت کا بلوچستان کا جو کوٹہ ہے وہ پورا دیا جائے اور سیپیک میں مناسب حصہ دیا جائے تو بلوچستان کے سیاسی سماجی اور معاشی حالات پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کیا جاتا تو مستقبل میں بلوچستان کے عوام سے کم از کم جھوٹ نہ بولا جائے اور بلوچستان سے معافی مانگنے کے بجائے بلوچستان ہی کو معاف کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.