بے خوف آواز

44

ملک کی عظیم شخصیت اور بے خوف آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش ہوئے ایک برس بیت گیا عاصمہ جہانگیر ایک ناقابل شکست جنگجو تھیں جنہوں نے انصاف، مساوملک کی عظیم شخصیت اور بے خوف آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش ہوئے ایک برس بیت گیا عاصمہ جہانگیر ایک ناقابل شکست جنگجو تھیں جنہوں نے انصاف، مساوات، آزادی اور سب کے وقار کی جنگ لڑی۔ عاصمہ جہانگیر نے ظلم، ناانصافی اور قدامت پسندی کے خلاف ایسے وقت میں لڑائی شروع کی تھی جب بہت سے مردوخواتین سیاسی مصلحتوں کا شکار تھے۔ عاصمہ جہانگیر اصولوں کو ہر بات پر ترجیح دیتی تھیں۔ایک ایسے معاشرے میں جس کے لیڈروں کا ذاتی کردار کوئی نہ ہو، جو ایمانداری، عوام اور آئین سے وابستگی سے محروم ہوں وہاں عاصمہ جہانگیر جیسے سول سوسائٹی کے لیڈر ہی امید کی علامت ہوا کرتے ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے احیاءمیں جو کردار ادا کیا ان کی جدوجہد اصل میں اس سے زیادہ گہری اور موثرتھی۔ وہ نئے تصورات، قائدانہ صلاحیتوں، مزاحمت، قربانیوں اور سویلین اور فوجی آمروں کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت سے لیس تھیں۔ انہوں نے اپنی نسل اور بعد میں آنے والوں کے لیے ہمت اور سیاسی جدوجہد کی ایسی مثال چھوڑی
ہے جو سیاست، طبقات، مذہب اور نسلی تعصبات سے پاک ہے۔ ان کا نظریہ اورسیاسی کردار تمام صنفوں اور ہر اس شخص کیلئے تھا جسے ان کی ضرورت تھی۔ عاصمہ جہانگیر جیسے لیڈر اس جاگیردارانہ، مردانہ حاکمیت والے اور ظالمانہ سیاسی ماحول کے اندر گوہر نایاب ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے جذبے کا اظہار ہوتا ہے جو بلند نظریات کو ذاتی کامیابیوں اور مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے نظریات کیا تھے اور نئی نسل کو ان کے نظریات سے آگاہ بھی کرنا چاہیے۔ ان کی دہائیوں پرانی جدوجہد کو چند تصورات کے خلاف مزاحمت تک محدود کرنا بھی ناانصافی ہو گی۔ لیکن یہ چند نظریات سب سے اہم تھے۔ سب سے پہلے تو عاصمہ جہانگیر ملک کے ا ندر انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ کیلئے پرعزم رہیں۔ انہوں نے مرحوم دراب پٹیل کے ساتھ ملک کر انیس سو ستاسی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان قائم کیا۔ یہ انتہائی مشکل دور تھا جب تیسری فوجی حکومت جو سب سے زیادہ ظالم تھی اور جس نے خود کو سخت گیر مذہبی گروپوں کا اتحادی بنا لیا تھا وہ ہر مخالفانہ آواز کو سختی سے کچل رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب آزاد خیال لوگ، سیکولر اور سماجی کارکن نشانہ بن رہے تھے، انہیں یونیورسٹیوں اور کالجوں سے باہر نکالا جا رہا تھا اور میڈیا پر آمر کا مکمل کنٹرول تھا۔ ایچ آر سی پی کے بانیوں نے انسانی حقوق کے دفاع کا چیلنج قبول کیا جسے بہت نقصان پہنچا تھا خاص طور پر اندرون سندھ میں تحریک بحالی جمہوریت کے دوران انسانی حقوق کی بہت خلاف ورزی ہوئی تھی۔ ایک انتہائی ظالمانہ، حاکمانہ ماحول والے معاشرے اور آمرانہ حکومتوں کی موجودگی میں ایسے ادارے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے آنے والی نسلوں کیلئے جو مثال چھوڑی ہے وہ یہ ہے کہ خواہ پابندیاں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں آپ کو ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے اور کمزوروں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کو بھی آواز فراہم کی جو اکثر معاشرے میں دبائی جاتی ہیں، خاص طور پر ان کے خاندان کے لوگ، رشتے دار اور عزیز ہی انہیں دباتے ہیں۔عاصمہ جہانگیر نے اس حوالے سے تحریکیں چلائیں، سول سوسائٹی کو منظم کیا، احتجاج کئے اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف عدالتوں میں بھی جنگ لڑی۔ تاکہ امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے شہری آزادیوں کیلئے جو جنگ لڑی وہ تو صنفی ایشوز سے بھی بالاتر تھی۔ اس میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق پر بھی بات کی گئی۔ ان کی قیادت، فلسفے اور مثال سے متاثر ہو کر سول سوسائٹی کے بہت سے گروپ بھی ایسے ہی معاملات پر آواز اٹھانے لگے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو عاصمہ جہانگیر نے ترقی پسند سوچ اورجدوجہد پر بڑے واضح نقوش چھوڑے ہیں۔ آخر میں کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر نے قانون کی حکمرانی کے حق میں بھی زوردار آواز اٹھائی، وہ آئین ے احترام، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بہت بڑی داعی تھیں۔ انہوں نے تمام فوجی آمروں کی مخالفت کی اور تحریک بحالی جمہوریت میں بھی پیش پیش رہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی جدوجہد کے ذریعے شہری مزاحمت کی ایک بڑی میراث چھوڑی ہے۔

ت، آزادی اور سب کے وقار کی جنگ لڑی۔ عاصمہ جہانگیر نے ظلم، ناانصافی اور قدامت پسندی کے خلاف ایسے وقت میں لڑائی شروع کی تھی جب بہت سے مردوخواتین سیاسی مصلحتوں کا شکار تھے۔ عاصمہ جہانگیر اصولوں کو ہر بات پر ترجیح دیتی تھیں۔ایک ایسے معاشرے میں جس کے لیڈروں کا ذاتی کردار کوئی نہ ہو، جو ایمانداری، عوام اور آئین سے وابستگی سے محروم ہوں وہاں عاصمہ جہانگیر جیسے سول سوسائٹی کے لیڈر ہی امید کی علامت ہوا کرتے ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے احیاءمیں جو کردار ادا کیا ان کی جدوجہد اصل میں اس سے زیادہ گہری اور موثرتھی۔ وہ نئے تصورات، قائدانہ صلاحیتوں، مزاحمت، قربانیوں اور سویلین اور فوجی آمروں کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت سے لیس تھیں۔ انہوں نے اپنی نسل اور بعد میں آنے والوں کے لیے ہمت اور سیاسی جدوجہد کی ایسی مثال چھوڑی
ہے جو سیاست، طبقات، مذہب اور نسلی تعصبات سے پاک ہے۔ ان کا نظریہ اورسیاسی کردار تمام صنفوں اور ہر اس شخص کیلئے تھا جسے ان کی ضرورت تھی۔ عاصمہ جہانگیر جیسے لیڈر اس جاگیردارانہ، مردانہ حاکمیت والے اور ظالمانہ سیاسی ماحول کے اندر گوہر نایاب ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے جذبے کا اظہار ہوتا ہے جو بلند نظریات کو ذاتی کامیابیوں اور مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے نظریات کیا تھے اور نئی نسل کو ان کے نظریات سے آگاہ بھی کرنا چاہیے۔ ان کی دہائیوں پرانی جدوجہد کو چند تصورات کے خلاف مزاحمت تک محدود کرنا بھی ناانصافی ہو گی۔ لیکن یہ چند نظریات سب سے اہم تھے۔ سب سے پہلے تو عاصمہ جہانگیر ملک کے ا ندر انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ کیلئے پرعزم رہیں۔ انہوں نے مرحوم دراب پٹیل کے ساتھ ملک کر انیس سو ستاسی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان قائم کیا۔ یہ انتہائی مشکل دور تھا جب تیسری فوجی حکومت جو سب سے زیادہ ظالم تھی اور جس نے خود کو سخت گیر مذہبی گروپوں کا اتحادی بنا لیا تھا وہ ہر مخالفانہ آواز کو سختی سے کچل رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب آزاد خیال لوگ، سیکولر اور سماجی کارکن نشانہ بن رہے تھے، انہیں یونیورسٹیوں اور کالجوں سے باہر نکالا جا رہا تھا اور میڈیا پر آمر کا مکمل کنٹرول تھا۔ ایچ آر سی پی کے بانیوں نے انسانی حقوق کے دفاع کا چیلنج قبول کیا جسے بہت نقصان پہنچا تھا خاص طور پر اندرون سندھ میں تحریک بحالی جمہوریت کے دوران انسانی حقوق کی بہت خلاف ورزی ہوئی تھی۔ ایک انتہائی ظالمانہ، حاکمانہ ماحول والے معاشرے اور آمرانہ حکومتوں کی موجودگی میں ایسے ادارے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے آنے والی نسلوں کیلئے جو مثال چھوڑی ہے وہ یہ ہے کہ خواہ پابندیاں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں آپ کو ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے اور کمزوروں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کو بھی آواز فراہم کی جو اکثر معاشرے میں دبائی جاتی ہیں، خاص طور پر ان کے خاندان کے لوگ، رشتے دار اور عزیز ہی انہیں دباتے ہیں۔عاصمہ جہانگیر نے اس حوالے سے تحریکیں چلائیں، سول سوسائٹی کو منظم کیا، احتجاج کئے اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف عدالتوں میں بھی جنگ لڑی۔ تاکہ امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے شہری آزادیوں کیلئے جو جنگ لڑی وہ تو صنفی ایشوز سے بھی بالاتر تھی۔ اس میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق پر بھی بات کی گئی۔ ان کی قیادت، فلسفے اور مثال سے متاثر ہو کر سول سوسائٹی کے بہت سے گروپ بھی ایسے ہی معاملات پر آواز اٹھانے لگے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو عاصمہ جہانگیر نے ترقی پسند سوچ اورجدوجہد پر بڑے واضح نقوش چھوڑے ہیں۔ آخر میں کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر نے قانون کی حکمرانی کے حق میں بھی زوردار آواز اٹھائی، وہ آئین ے احترام، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بہت بڑی داعی تھیں۔ انہوں نے تمام فوجی آمروں کی مخالفت کی اور تحریک بحالی جمہوریت میں بھی پیش پیش رہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی جدوجہد کے ذریعے شہری مزاحمت کی ایک بڑی میراث چھوڑی ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.