نون لیگ کے سخت بیانات، کیا عدلیہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے؟

68

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیان نے پاکستان کے سیاسی ماحول کو ایک بار پھر گرما دیا ہے اور کئی سیاست دان اسے عدلیہ کے خلاف کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے گذشتہ روز نیب عدالت میں حاضری کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جج بغض سے بھرے پڑے ہیں۔ بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں آگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سارا بغض، غصہ اور الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے۔اس بیان سے پہلے مریم نواز شریف نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ انصاف کی کرسی سے زہر اگلا جارہا ہے۔پاکستان کے ایک جج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف مقدمات چلانے کے بجائے انہیں ایک کیس کے طور پر پرکھا جائے۔پاکستان میں سیاست دانوں نے ان بیانات پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ وہ اداروں کو تباہ کر رہے ہیں اور اپنی کرپشن بے نقاب ہونے پر ججوں پر حملے کر رہے ہیں۔مسلم لیگ نے صرف ان بیانات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پارٹی کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں یہ کہا گیا کہ نواز شریف مقبول ترین رہنما ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا، ”شاعری کا سوال لے کر رہبری کا سوال اٹھایا گیا۔ رہبری والوں نے پاکستان بنایا اور قربانیاں دیں۔ وہی پھانسی پر چڑھے، ملک بدر ہوئے اور نا اہل ہوئے۔ نواز شریف کے خلاف جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی سطح کی عدالتی زبان پر پورا نہیں اترتا۔ بینچ نے ماتحت عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ بغض، عناد، غصہ اور اشتعال افسوسناک ہے۔“اس اعلامیے سے اب کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ تصادم صرف نواز شریف نہیں بلکہ ان کی پارٹی کے زیادہ تر افراد چاہتے ہیں۔اس صورتِ حا ل پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور ماضی میں نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نون لیگی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نےمیڈیا کو بتایا، ”مسئلہ یہ ہے میاں صاحب عدلیہ سے تصادم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایک اور ریاستی ادارے سے بھی تصادم چاہتے ہیں تاکہ وہ سیاسی شہید بن سکیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کریں لیکن اب لوگ ان کاساتھ نہیں دیں گے۔ جو لوگ دو ہزارتیرہ میں ان کے پاس آئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس سے پہلے مشرف، پی پی پی اور دوسری جماعتوں میں کام کیا اور وہ اب میاں صاحب کے اردگرد نظر آرہے ہیں۔ ب±را وقت آنے پر وہ فوراً بھاگ جائیں گے۔ جن لوگوں کی اپنی ذاتی سیاسی بنیادیں نہیں ہیں جیسے کہ خواجہ آصف یا خواجہ سعد رفیق یا ان ہی جیسے لوگ شاید میاں صاحب کے ساتھ رہ جائیں۔“ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ”جن لوگوں نے میاں صاحب کا برے وقت میں ساتھ دیا جیسا کہ غوث علی شاہ، میرے والد سردار ذوالفقار کھوسہ تو ان لوگوں کو میاں صاحب نے بھلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انہیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں یہ تصادم کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نہیں آئے گا۔“مریم نواز شریف نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ انصاف کی کرسی سے زہر اگلا جارہا ہے پی پی پی کے ترجمان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی چوہدری منظور نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ، ”نون لیگ کی پالیسی یہ ہے کہ عدالتوں پر دباو¿ ڈالا جائے۔ دوسرے مرحلے میں جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا جائے اور پھر سیاسی شہید بن کر عوام میں ہیرو بننے کی کوشش کی جائے۔ اور پھر معاشی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے تاکہ وہ کہہ سکیں کہ ان کے جانے سے معاشی نظام تباہی کا شکار ہوگیا۔ ان کا تو بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ عدالتوں پر حملے کریں جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا۔ انہوں نے صرف آج ہی عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا بلکہ یہ جنگ تو پہلے سے ہی چل رہی ہے۔“ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پی پی پی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوگئی ہے: ”ہماری ڈیل اس ملک کی عوام سے ہے۔ ہم نے اس ملک میں جمہوریت کے لیے جیلیں کاٹیں ہیں، کوڑے کھائے ہیں اور بہت ساری مشکلات جھیلیں۔ اب اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو ہم پھر جدوجہد کریں گے لیکن نون لیگ سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔“ موجودہ سیاسی صورت حال کے بارئے تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اس کا نقصان انہیں ہی ہو گا اس لئے ضروری ہے کہ جمہوری تسلل کو برقرار رکھنے کے لئے آپسی اختلاف بھلا کر آگے کا سوچیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.