پشاور دہشت گردی ،شہادتیں آخر کب تک ؟

17

ملک بھر میں جب لوگ عید میلاد کی تقریبات منا رہے تھے عین اسوقت دہشت گردوں کا ایک گروہ پشاور میں طالب علموں پر حمہ آوار تھا۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے نتیجہ میں تین دہشت گرد مارے گئے اور چوتھا زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ اس کے باوجود حملہ آور 9 افراد کو شہید اور 37 کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان تحریک طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پیغمبر اسلام کے یوم ولادت پر اس گھناو¿نے فعل میں مرتکب ہو کر اس گروہ نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ صرف لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی دہشت گردی کا جواز فراہم کرنے کے لئے اسلام کا نام لیتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد ملک میں شریعت اسلامی کا نفاذ ہے۔ جو لوگ یہ شریعت بنی نوع انسان تک پہنچانے والے پیغمبر آخری الزماں کا احترام کرنے اور ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے سے قاصر ہوں ، وہ اسلامی نظام کے نام پر انارکی اور بے چینی پھیلانے کے سوا کوئی دوسرا مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ عناصر مسلمانوں کے لئے ہلاکت کا سبب بننے کے علاوہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔سیکورٹی فورسز کی اطلاعات کے مطابق حملہ آور برقع میں ملبوس تھے۔ اس طرح وہ بھیس بدل کر پشاور کے ایگری کلچر ٹریننگ سنٹر کے ہوسٹل میں داخل ہونے اور وہاں پر موجود لوگوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس حملہ میں شہید ہو نے والوں میں چھ طالب علم تھے۔ دیگر جاں بحق ہونے والوں میں ہوسٹل کا چوکیدار اور دو شہری بھی شامل تھے۔ تاہم سیکورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور خود کش جیکٹس پہنے ہوئے تھے اوران کے پاس دو درجن کے لگ بھگ ہینڈ گرنیڈ بھی تھے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی فوری کارروائی کی وجہ سے انہیں دھماکہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس صورت میں بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ عید میلاد النبی کی چھٹی ہونے کی وجہ سے بہت سے طالب علم اپنے گھروں کو گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے بہت کم تعداد میں لوگ حملہ کے وقت ہوسٹل میں موجود تھے۔ اگر ہوسٹل میں پوری گنجائش کے مطابق طالب علم موجود ہوتے تو بھی زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا جس سے خدا نے محفوظ رکھا۔
پاک فوج کے ترجمان اور پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے دوران افغانستان میں بعض لوگوں سے رابطہ میں تھے جس سے یہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور وہیں سے حملہ کے دوران ہدایات بھی دی جا رہی تھیں۔ فوج کے ترجمان نے افغانستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی کے لئے مو¿ثر کارروائی کرے۔ تاہم ایک دوسرے کے ملکوں میں حملوں کے حوالے سے الزام تراشی تو کی جاتی ہے لیکن بات ابھی تک اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ افغان علاقوں میں پاکستان دشمن عناصر کے خلاف بھی اقدام ہوگا۔ امریکہ نے ڈرون حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے بعض لیڈروں کو ضرور نشانہ بنایا ہے لیکن افغان سرزمین پر یہ عناصر پوری آزادی سے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ حملہ آور صرف ایک روز قبل افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے۔ اس طرح ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور مواصلت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ملک میں بلا شبہ دہشت گردی کے واقعات میں قابل ذکر کمی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاک فوج اور حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کا صفایا کردینے کے دعوو¿ں کے باوجود تھوڑے تھوڑے وقفے سے پاکستان میں کوئی نہ کوئی حملہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے ان سرکاری اعلانات پر پوری طرح یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے اور ان کے تمام ٹھکانے ختم ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری موجود ہے جس کی وجہ سے تخریبی عناصر کو کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ بات کسی حد تو تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پاک فوج کی کارروائی کے بعد متعدد دہشت گرد گروہوں نے افغانستان میں پناہ لی ہوئی ہے جہاں سے وہ بھارتی ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ان منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہناتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا
مزاج ختم کردیا جائے تو ان ملک دشمن عناصر کو ملکی سرزمین پر سہولت کار اور تعاون فراہم کرنے والے عناصر میسر نہیں ہوں گے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان کو دہشت گردی سے پوری طرح محفوظ قرار دیا جاسکے گا۔کسی دہشت گرد حملہ کے بعد یہ سراغ لگانا بھی اہم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہاں سے آئے اور کون سے عناصر ان کی پشت پناہی کررہے تھے لیکن صرف ہمسایہ ملکوں پر الزام تراشی سے ملک کے عوام کی مکمل حفاظت کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی حملہ کے بعد روٹین کی کارروائی کے طور پر افغانستان میں موجود عناصر پر الزام تراشی کی جاتی ہے۔ پاکستانی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی زندگیاں محفوظ ہیں۔ یہ یقین دہانی صرف قصورواروں کا تعین کرنے یا ہمسایہ ملکوں کی سازشوں کا سراغ لگا کر نہیں کروائی جا سکتی۔ بلکہ ان سازشوں کے باوجود عوام کی حفاظت کو یقینی بنا کر ہی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو ابھی یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.