میٹس کے دورئے کے موقع پر (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا بیان کیوں؟

45

امریکہ کے وزیرِ دفاع جم میٹس پیر کو اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت سے امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی پر بات چیت کریں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اگست میں نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا اور پاکستان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کارروائیوں میں شدت لانا چاہیے۔میٹس نے پاکستان روانگی سے قبل کویت میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ ایسے عملی تعلقات کی خواہاں ہے، جن کے ذریعے تعاون میں وسعت آئے۔ میٹس نے ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ ہی کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا ذکر بھی کیا۔ان کا کہنا تھا، ”ہم نے پاکستانی رہنماو¿ں سے سنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی معاونت نہیں کرتے۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ ان کے اقدامات اور پالیسیاں بھی انہی بیانات کی آئینہ دار ہوں گی۔“جم میٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔بطور وزیر دفاع جم میٹس کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔جم میٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔امریکی وزیرِ دفاع کی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں طے ہیں جن میں پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان میں پاکستان کے کردار پر بات چیت متوقع ہے۔اسلام آباد آمد سے قبل اپنے فوجی طیارے میں ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو میں جم میٹس نے کہا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے گا۔ا±نھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ملک ایک مشترکہ موقف پر متفق ہو سکیں گے اور ”پھر ہم مل کر کام کریں گے۔“امریکی وزیرِ دفاع جم میٹس نے اکتوبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ا±ن کا ملک ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔امریکہ کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کے دھڑے حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں ہیں اور یہ گروپ افغان فورسز کے علاوہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج پر حملے کرتا رہا ہے۔افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسلام آباد سے متعلق سخت موقف اپنانے کے باوجود ا±ن کے بقول دہشت گردوں کی حمایت کے بارے میں پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کہہ چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی انتظامیہ کی پالیسی پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے نکتہ نظر میں فاصلہ ہے جسے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ اختلافات اور فاصلوں کو کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔گزشتہ ماہ ہی امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں افغانستان کی سکیورٹی کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی تھی۔جب کہ گزشتہ ہفتے افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی عسکری وفد نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران سلامتی کی صورت حال خاص طور پر ایک دوسرے کے ہاں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں اور ا±ن کے خلاف کارروائی کے بارے میں بات چیت کی تھی۔
ایک طرف جیمس دوطرفہ بات چیت کے لئے پاکستان کے دورئے پر ہیں تو دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان اپنی حدود میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم نہیں کرے گا تو امریکا اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے ریگن نیشنل ڈیفنس
فورم، سیمی، کیلیفورنیا میں سخت الفاظ میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ پاکستان نئی
افغان پالیسی پر عمل کرے۔سی آئی اے ڈائریکٹر نے جیمس میٹس کے دورے کے حوالے سے بتایا کہ جیمس میٹس پاکستان کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ارادوں سے آگاہ کریں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے باعث امریکا، افغانستان میں وہ نہیں کر پا رہا جو اسے کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید وضاحت دی کہ اگر پاکستان نے واشنگٹن کی پیشکش کو مسترد کیا تو ٹرمپ انتظامیہ ان پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کرے گی۔خیال رہے کہ 2004 سے سی آئی اے فاٹا میں ڈرون حملے کرتے آرہی ہے اور حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ان حملوں کی حدود کو بڑھا کر پاکستان کے دیگر علاقوں تک پھیلانا چاہتی ہے۔سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کے سابق ہم منصب لیون پانیٹا نے بھی اس موقع پر اوباما انتظامیہ کے دور میں سی آئی کی چیف کے حیثیت سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے اور یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جو سرحد پار افغانستان میں حملے کرکے واپس پاکستان چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے پاکستان کو اس مسئلے پر پوری طرح سے منانے کی کوشش کی تھی لیکن جیسا کہ مائیک پومپیو جانتے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دو قسم کی رائے پائی جاتی ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایک جانب پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ افغانستان اور بھارت کے معاملے میں دہشت گردوں کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتا’۔لیون پانیٹا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اپنی اس پالیسی کی وجہ سے ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہا انہوں نے امریکا کی جانب سے پاکستان کے تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جیمس میٹس اور مائیک پومپیو پاکستان کو دائرہ کار کو بڑا کرنے پر منا سکیں گے جس کے ذریعے وہ اپنی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں گے تاہم جب تک ایسا نہیں ہوتا ہمیں افغانستان میں مسائل کا سامنا رہے ۔مائیک پومپیو نے پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی سوچ اب تک تبدیل نہیں ہو سکی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی نظر ایک اور مشترکہ مفادات ڈھونڈنے پر ہے جہاں وہ ایک دوسرے کی بات سنیں گے۔خیال رہے کہ جیمس میٹس نے رواں سال اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ امریکا کسی بھی ضروری اقدام کو اٹھانے سے قبل پاکستان کے ساتھ آخری مرتبہ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی سب سے بڑی تشویش پاکستان میں شدت پسندوں کی مبینہ پناہ گاہیں ہیں۔”جس طرح جنرل نکولسن نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو پاکستان والے ان کو بولیں گے کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی درخواست کی تھی اور ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی اطلاعات ہیں حقانی نیٹ ورک کے متعلق یا طالبان کے بارے میں تو ہمارے ساتھ شئیر کریں۔ اگر پھر بھی ہم نے کارروائی نہ کی تو پھر آپ دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ پاکستان ڈو مور نہیں کر رہا۔“دونوں ملکوں کے درمیان جن معاملات پر اختلاف ہے ا±سے دور کرنے کا سب سے بہتر راستہ زیادہ اور موثر رابطے ہی ہیں۔”جب آپ آپس میں بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کا موقف سنتے ہیں تو اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔۔۔ تو یہ ملنے سے تعلقات اچھے ہوں گے اور ان کو اس سے زیادہ ملنا چاہیے۔“ ضرروت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کی جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جاسکتی جب تک دہشت گردوں کے حوالے سے تفریق موجود رہے گی ایک طرف امریکہ کے مطالبات ہیں تو دوسری جانب پاکستان یہ کہتا آرہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہی اس مسلے کو مل بیٹھ کر ہی حل کیا جاسکتا جس امید کی جا رہی ہے کہ اس ضمن میں جیمس کا دورہ امید افزا نتائج کا حامل ہو گا اور دہشت گردی کے خلاف موثر بات چیت کے ساتھ مربوط لائحہ عمل ترتیب جائے گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.