حکومت کی مخالفت میںبنتے اتحاد،فائدہ کس کو ہو گا

42

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف اتحاد کے قیام کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے خلاف بننے والے اتحاد اور اشتراک کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت کی مدت اگلے برس جون میں پوری ہوگی اور اس کے بعد ہی انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت انتخاب ہونا ضروری ہے ورنہ ملک میں انارکی پیدا ہو سکتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے خلاف جوڑ توڑ کرنے والی سیاسی قوتوں کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ صفر جمع صفر کا نتیجہ صفر ہی ہو سکتا ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی سیاسی مخالفین کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے مقابلے میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں اس لئے اب وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ملک کے وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی باتوں کو اگر ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو صرف یہی باور کیا جا سکتاہے کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ کی حکومتوں کے لئے روز بروز بڑھتی ہوئی مشکلات کے باوجود یہ دونوں لیڈر بظاہر پراعتماد نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ موجودہ بحران کو ٹالا جاسکے۔ ملک کا عام آدمی بھی وزیراعظم کی اس بات سے متفق نہیں ہوگا کہ ملک میں انارکی یا انتشار موجود نہیں ہے۔ کیوں کہ مسلم لیگ (ن) کے لئے حکمرانی کا ہر دن ایک نیا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔ ملک میں احتجاج، دھرنے اور قانون شکنی کے واقعات کی صورت میں انارکی تو موجود ہے۔اسی طرح وزیراعظم عباسی کی اس بات میں بھی وزن نہیں ہے کہ ان کے مخالفین اگر اتحاد کر بھی لیں تو یہ صفر جمع صفر کے برابر ہی ہے۔ وہ یہ بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف زرداری کی پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کا حوالہ دے رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2013 کے انتخاب میں پنجاب میں اپنے ووٹ بینک سے محروم ہوئی ہے اور کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ گزشتہ 4 برس کے دوران بھی پارٹی کی قیادت پنجاب کے عام ووٹر اور پیپلز پارٹی کے روایتی حامیوں کو ساتھ ملانے کے لئے کوئی دلکش نعرہ دینے، عوامی رابطہ مہم چلانے یا پارٹی کی تنظیم سازی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس آصف زرداری مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پنجہ آزمائی کرتے ہوئے، اس سے مایوس ہونے والے ایسے لوگوں کو ساتھ ملانے کے لئے جوڑ توڑ کر رہے ہیں جو اپنے بل بوتے پر انتخاب جیت سکتے ہیں لیکن انہیں اقتدار میں آنے کے لئے کسی ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت بنانے کے قابل ہو سکے۔ آصف زرداری کو امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو درپیش مشکلات کی وجہ سے وہ اس مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں تاکہ 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے زیادہ نشستیں جیت کر مخلوط حکومت بنانے کے قابل ہو جائے۔ اس کوشش میں البتہ انہیں پاکستان تحریک انصاف سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا جو ایک طرف پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کو کمزور کرکے آئندہ انتخاب جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ تو دوسری طرف عمران خان سندھ میں آصف زرداری کی سیاست کا ”جنازہ“ نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کا دعویٰ ہے کہ زرداری بھی نواز شریف ہی کی طرح بدعنوان اور ناقابل قبول ہیں۔
آصف زرداری کی ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات اور شہباز شریف کے استعفیٰ کے لئے ان کے مطالبے کی حمایت کا مقصد بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لئے مواقع میں اضافہ کرنا ہی ہے لیکن اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کے حامیوں کی طرف سے جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ زرداری پاکستان عوامی تحریک اور طاہر القادری کے ساتھ کسی باقاعدہ سیاسی اشتراک میں شامل ہونے کی غلطی نہیں کریں گے۔ اس ملاقات اور مشترکہ بیان کا مقصد پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی قوت کو محدود کرنا اور نواز شریف کے بعد شہباز شریف کو سیاسی منظرنامہ سے ہٹانے کی کوشش کرنا ہے۔ یعنی اگرطاہر القادری کوئی احتجاج کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی بیان بازی کی
حد تک ان کا ساتھ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرسکتی ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ ہے اور ناانصافی کے خلاف کسی کے بھی ساتھ اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کی صورت میں ضرور چند ہزاربے لوث افراد کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے لیکن وہ پنجاب یا ملک کے کسی بھی حصہ میں کوئی سیاسی اہمیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کی حمایت سے کوئی دوسری پارٹی بعض نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ان کے سیاسی مخالفین کی اہمیت صفر سے زیادہ نہیں ہے حقیقت حال سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) کوہر سطح پر شدید مشکلات اور مزاحمت کا سامنا ہے۔ فیض آباد دھرنے میں چند سو یا ہزار افراد کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک کر وفاقی حکومت نے اس تاثر کو قوی کیا ہے کہ معاملات پر اس کی گرفت انتہائی کمزورہے اور وہ اپنے زیرنگیں اداروں کو بھی احکامات ماننے پر مجبور کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ایسے میں قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود مسلم لیگ (ن) کوجس ہزیمت اور شکست خوردگی کا سامنا ہے، اس کے نتیجے میں آئندہ انتخابات جیتنے کے لئے اس کا خواب منتشرہو سکتا ہے۔ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں اور پنجاب میں کامیابیوں پر تکیہ کر رہی ہے لیکن ماڈل ٹاون سانحہ کے بارے میں جسٹس نجفی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کی کوشش ہے کہ وہ شہباز شریف سے استعفیٰ لے سکیں۔ شہباز شریف کا استعفیٰ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کے لئے کسی بڑی ٹرافی سے کم نہیں ہوگا۔ اسی لئے پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اور پاک سرزمین پارٹی کے لیڈر طاہرالقادری اور ق لیگ سے مل کر اس مطالبہ کی حمایت کرنے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور فیض آباد دھرنے والوں کی طرح شہباز شریف کے استعفیٰ سے کم پر ”معاہدہ“ نہ کریں۔ ملک کے طاقتور اداروں میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت کو کمزور کرنے کے خواہشمند عناصر بھی شاید کسی نئے بحران کی حمایت پر آمادہ نہ ہوں۔ کیوں کہ سڑکوں پر احتجاج، نعرے بازی اور شدت پسندی کے فروغ کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن بھی کمزور ہوتی ہے۔ یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آنے لگتا ہے کہ کیا حکومت کے ساتھ ریاست بھی احتجاجی گروہوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔ یہ صورت حال ملک کے کسی ادارے کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔ اس لئے طاہر القادری نے شہباز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقصد پرامن اور جمہوری طریقے سے حاصل کیا جائے گا۔علامہ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ وہ دھکے مار کر شہباز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کریں گے لیکن یہ کام پرامن جمہوری طریقہ سے پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ حیرت ہے کہ وہ کون سا پرامن اور جمہوری طریقہ ہو سکتا ہے جس میں اقتدار سے چمٹے ہوئے لوگوں کو دھکے مار کر نکالنے کی ضرورت پیش آئے۔ جمہوری طریقے سے تبدیلی لانے کے لئے طاہر القادری کو 2018 کے انتخابات کا انتظار کرنا ہوگا۔ ہمارئے سیاستدانوں کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ سٹیٹ بینک روپے کی قدر میں کمی کے لئے آئی ایم ایف کے شدید دبا میں ہے۔ حکومت کو مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے مسلسل غیر ملکی امداد اور فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے سوال پر امریکہ کے ساتھ تنازعہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات میں پاکستان کے لئے متوازن سفارتی پوزیشن اختیار کرنا دشوار ہوتا چلا جائے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی معیشت کے احیا کے لئے سنہرے خواب کی حیثیت رکھنے والا سی پیک منصوبہ انتشار، سیاسی بدنظمی، ادارہ جاتی تصادم اور بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے تعطل اور مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ سارے معاملات اس بات سے قطع نظر کہ کون سی پارٹی حکومت بنا سکتی ہے، ملک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم دھرنے، احتجاج اور دھمکیوں کی باتیں کرنے والے مسلسل ان اندیشوں کو سمجھنے سے انکار کررہے ہیں۔ یہ رویہ ملک کے مستقبل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوسکتا۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.