تحریک طالبان پاکستان اور قوم پرست عسکریت پسند مہلک خطرہ

46

حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ نے حکومتی اس دعوئے کی نفی کی ہے کہ پاکستان میں دعش جیسی کسی تنظیم کا کوئی وجود نہیں ہے ، اس ضمن میں پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز نے اپنی سالانہ سیکورٹی رپورٹ 2017 جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور قوم پرست عسکریت پسند ابھی بھی پاکستان کے لیے ایک مہلک خطرہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک میں داعش کی موجودگی کے وا ضح شواہد موجود ہیں جبکہ دہشتگردی کے واقعات میں گذشتہ سال کی نسبت 16 فیصد کمی کے ساتھ پاکستان میں کل 370 دہشتگردانہ حملے ہوئے جس میں 815 افراد ہلاک ہوئے اور 1736 افراد زخمی ہوئے پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی سالانہ رپورٹ میں ملک بھر میں دہشت گردی کے اعداوشمار پیش کیے گئے ہیں جن کے مطابق ملک میں ہونے والے 6 مہلک حملوں میں 153 افراد جاں بحق ہوئے،بلوچستان اور فاٹا خاص طور پر کرم ایجنسی سال 2017 میں بالترتیب 288 اور 253 ہلاکتوں کے سبب حساس ترین علاقے شمار ہوئے. ٹی ٹی پی ، جماعت الاحرار اور ان جیسے مقاصد رکھنے والے گروہوں نے 58 فیصد حملوں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ 37فیصدحملے قوم پرستوں اور 5 فیصد حملے فرقہ وارانہ دہشتگردوں نے کئے رپور ٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ابہام باقی رہا۔ سال 2018 میں نیشنل سیکورٹی پالیسی کا اعلان متوقع ہے جس میں بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی پس منظر کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ قومی سطح پر داخلی سیکورٹی پالیسی 2018 پر نظرثانی کی جائے گی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوئی بھی حکمت عملی پارلیمنٹ کی مرضی سے طے کی جائے گی۔دہشتگردی کے ان حملوں میں سے 213 حملے یا کل حملوں کا 58 فیصد یا تو تحریک طالبان یا اس سے علیحدہ ہونے والے گروہوں، جماعت الاحرار اور اس جیسے اور گروہوں مقامی طالبان وغیرہ نے انجام دیئے اور ان حملوں میں 186 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ قوم پرست دہشتگردوں کے حملوں میں 140 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان حملوں کی تعداد 138 تھی اور یہ ملک بھر میں ہوئے حملوں کی کل تعداد کا 37 فیصد تھا۔ ان میں سے بیشتر بلوچستان میں جبکہ کچھ سندھ میں کئے گئے۔ ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے کل 19 واقعات ہوئے اور ان میں 71 افراد جاں بحق اور 97 زخمی ہوئے،رپورٹ کے مطابق 2017 کے دوران کچھ نئے چیلنجز بھی ابھر کر سامنے آئے۔ ان میں ذاتی انفرادی حیثیت میں افراد کا دہشتگردی میں ملوث ہونا ، چھوٹے چھوٹے سیلز بنا کر دہشتگرد کاروائی کرنااور تعلیمی اداروں میں انتہاء پسند عناصر کا زور پکڑنا شامل ہے۔ سب سے اہم خطرہ داعش ہے جس نے ملک میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے اور اس نے پاک افغان سرحد کے قریب افغان علاقوں میں عسکری کاروائیاں کی ہیں۔ پاکستان میں داعش اور اس کے حمایتیوں نے 6 مہلک حملے کئے ہیں جن کے نتیجے میں 153 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں اس گروہ نے کوئٹہ سے چینی شہریوں کو اغواء اور بعد ازاں قتل کے علاوہ مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے کانوائے کو نشانہ بنایا تھا۔ سندھ میں ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑا حملہ سیہون شریف میں ہوا اور اس کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی۔تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہ ، قوم پرست عسکریت پسندوں خاص طور پر بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ اب بھی ایک مہلک خطرہ ہیں۔ خطرے کی بڑی علامت داعش کی بلوچستان اور شمالی سندھ میں موجودگی ہے جس نے بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔رپورٹ میں شامل قومی سلامتی کے مشیر لیفینینٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کے انٹرویو کے مطابق نیشنل سیکورٹی پالیسی مکمل ہو چکی ہے اور اسے حکومتی اراکین کے درمیان داخلی طور پر تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے اہم خطوط میں جنہیں سال 2018 میں عام کیا جائے گا، بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی پس منظر کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس رپورٹ میں انہیں اشاراتاَ بیان کیا گیا ہے۔رپورٹ کی تیاری میں شامل ایک انٹرویو میں نیکٹا کے کوآرڈینیٹر احسان غنی نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کی داخلی پالیسی ابھی نظر ثانی کے مراحل میں ہے۔ اس کی نظر ثانی شدہ شکل اور کاو¿نٹر ایکسٹریم ازم پالیسی کا اعلان سال 2018 میں کیا جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم روداری کی ہر شکل کے خلاف موثر کاروائی اور ایک نیا بیانیہ تشکیل دئے بنا ان افعال پر قابو پانا ناممکن ہی رہے گا، ملک بھر کے نجی اور سرکاری سکولوں میں پڑھانے والے استائذہ کرام کی اکثریت بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے نفرت اور انتہا پسندی کا درس دیتی پائی جاتی ان حالات کو تبدیل کئے بنا ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ملک سے انتہا پسند روئے ختم ہو سکتے جس کی کوکھ سے دہشت گردی اور دیگر جرائم پیدا ہوتے ہیں اس لئے حکومت کو تعلیم و تدریس کے نظام پر خصوصی فوکس کرنا ہوگا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.