امریکی امداد کو رد کرکے بھی پاکستان اپنی سالمیت قائم رکھے گا

66

امریکی امداد کی بندش سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس حوالے سے ایک حالیہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا امور کے ماہر اور امریکی مصنف روبرٹ ہیتھ وے نے اپنی تصنف میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی دباو¿ کے باوجود پاکستان کبھی اپنی سالمیت خطرے میں نہیں ڈالے گا چاہے اس کے لیے امریکی امداد ہی داو¿ پر کیوں نہ لگ جائے۔پاک امریکا تعلقات پر مبنی کتاب ‘دی لیوریج پیراڈوکس‘ پاکستان اور امریکا’ میں 50 کی دہائی سے لیکر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات کا احاطہ کیا گیا ہے۔مصنف کے مطابق دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی طویل تاریخ کا تنقیدی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور امریکا نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے۔مصنف نے لکھا ‘تاریخ میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ پاکستان نے اپنی سالمیت کا امریکی مفاد کی وجہ سے کسی بڑے خطرے میں ڈالا ہو، اس کے برعکس واشنگٹن کو ہر اس وقت ناکامی کا سامنا رہا جب امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد روک کر دھمکی آمیز رویہ اپنایا گیا جس سے پاکستان طرز عمل واشگٹن سے منفرد رہا’۔کتاب میں کہا گیا کہ ‘پاکستان نے ہمیشہ اس فائدے کو دیکھا جو امریکا کے حق میں رہا‘۔مصنف نے خبردار کیا کہ ’اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں واشنگٹن کی نااہلی رہی کہ امریکی فیصلہ سازوں نے متعدد مرتبہ اپنی طاقت کو نظر انداز کیا جو انہیں دی گئی تھی’۔انہوں نے اس بحث کو مسترد کیا کہ صرف پاکستان ہی امریکی اقدامات کا یکطرفہ شکار بنا، پاکستان اور امریکا دوطرفہ سفارتی امور میں مکمل شراکت دار ہیں، جس میں امریکا اور پاکستان دونوں کی خارجہ پالیسی کی عکاسی نظر آتی ہے بلکہ عمومی طور پر پاکستان نے اپنی طاقت کو بڑھانے کے لیے امریکی طاقت کو مسترد کیا۔کتاب میں بتایا گیا کہ پاکستان، امریکا سے گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی جغرافیائی حیثیت، اندرونی غیر معمولی طاقت اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ضروریات کو مضبوط کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے معاملات نمٹاتا رہا۔ کتاب میں خصوصی طور پر امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے مابین تعلقات پر تنقیدی روشنی ڈالی گئی ہے اور ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرکے اس کے اثرات اور خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔مصنف نے ٹرمپ کی 21 اگست والی تقریر میں افغانستان کے لیے نئی امریکی حکمت عملی کا خصوصی تذکرہ کیا۔مذکورہ تقریر میں ٹرمپ نے کہا تھا ‘ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور اسی دوران وہ دہشتگروں کو ‘محفوظ پناہ گاہیں’ فراہم کررہا ہے لیکن اب اس کو بدلنا ہوگا اور یہ بہت جلد ہوگا’۔مصنف کے مطابق اگرچہ ٹرمپ کی تقریر افغانستان کے تناظر میں تھی لیکن پاکستان کو احساس ہو چلا تھا کہ امریکا، پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔بعدازاں امریکا کے نائب وزیراعظم مائیک پنس نے لکھا کہ ‘امریکا نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے’۔مصنف نے دو وجوہات کی بنا پر ٹرمپ پالیسی کو خطرناک قرار دیا ہے، پہلا یہ کہ افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لیے کسی سنجیدہ مذاکرات کی کوشش نہیں کی جارہی جبکہ دوسری جانب پاکستان کے لیے ٹرمپ کی خاموشی سے پاکستان یہ نتیجہ اخذ کررہا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں غیر جانبداری اختیار کرلی جائے’۔پاکستان کے لیے مزید پریشان کن صورتحال یہ رہی کہ ٹرمپ نے افغانستان میں اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں میں بھارت کی عملداری کی بھرپور حمایت کی، ٹرمپ کی نئی پالیسی کے ثمرات یہ نکلے کہ پاکستان جو نائن الیون کے بعد سے امریکا کا اتحادی تھا، اپنے مفادات کے حصول میں کسی دیگر مفاد کو یکسر نظراانداز کرنے لگا۔مصنف نے بتایا کہ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد اسلام آباد نے واضح کردیا کہ امریکا، افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔اسی دوران یہ بات بھی منظر عام پر آئی کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مالیاتی حجم 110 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد امریکا کے چند لاکھ ڈالروں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔مصنف نے اپنی کتاب میں امریکا کو تجویز دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہ کرے۔مصنف نے تجویز پیش کی کہ امریکا کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا اور ممالک کی داخلی ترقی پر توجہ کو مرکوز رکھنا چاہیے۔انہوں نے ٹرمپ کو تجویز دی کہ طاقتور کی حیثیت سے بات چیت کریں اور میز پر فوجی قوت نہ لائیں جبکہ مذاکرات سے دور ہونے سے مت ڈریں کیوں کہ دوسری پارٹی کو آپ سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی سادر کے خیالات کو امریکہ میں پسند نہیں کیا جاتا جبکہ دوسری بات یہ سامنے آتی ہے
کہ ہر مسلے کا حل مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کیا جانا چاہیے جس کے لئے دونوں جانب سے کوششوں کوگے بڑھانے کی ضرورت ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.