چیف جسٹس کا خطاب اور کئی دہائیوں سے انصاف کی منتظر عوام؟

52

ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں اور ضلعی عدالتوں میں 18 لاکھ سے زائد کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں اکثر افراد کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود انصاف فراہم نہیں ہو سکا۔لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان (ایل جے سی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سپریم کورٹ میں 38 ہزار 5 سو 39 کیسز زیرالتوا ہیں جبکہ تمام ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 93 ہزار 9 سو 47 ہے، علاوہ ازیں وفاق اور صوبوں کے ماتحت ذیلی عدالتوں میں زیرالتو کیسز کی تعداد 18 لاکھ 96 ہزار 8 سو 86 ہے۔ان کیسز میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک لاکھ 47 ہزار 5 سو 42 کیسز، سندھ ہائی کورٹ میں 93 ہزار 3 سو 35 کیسز، پشاور ہائی کورٹ میں 30 ہزار 7 سو 64 کیسز، بلوچستان ہائی کورٹ میں 6 ہزار 30 کیسز جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار 2 سو 78 کیسز شامل ہیں۔اسی طرح پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی تعداد 11 لاکھ 84 ہزار 5 سو 51 ہے، سندھ میں 97 ہزار 6 سو 73، خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 4 زہار 30 ہے، بلوچستان 12 ہزار 8 سو 26 ہے جبکہ اسلام آباد میں ان کی تعداد 37 ہزار 7 سو 53 ہے۔سینئر وکیل محمد اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتیں ضلعی عدالتوں کا اپلیٹ فورم ہیں لیکن ایسا لگتا ہے تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی توجہ آرٹیکل 199 اور آٹیکل 184/3 پر ہے، جو انہیں بنیادی حقوق نافذ کرنے کے اختیارات دیتے ہیں۔تاہم اس معاملے میں ماہر قانون کا یہ بھی خیال ہے کہ عدالتی بار بھی کیسز کے زیرِ التوا کی ذمہ دار ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر طارق محمود جہانگیری کا کہنا تھا کہ وکلاء بھی کیسز کی تاخیر اور سست روی کا شکار ہونے میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء غیر ضروری طور پر کیس کو ملتوی کروادیتے ہیں جبکہ بار کی جانب سے مسلسل ہڑتالوں کی وجہ سے بھی کیسز التوا کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس حوالے سے کیسز کے التوا کی ایک مثال شیخ عبدالوحید کی بھی ہے جنہوں نے 11 نومبر 1956 کو نیلامی میں ایک پلاٹ خریدا تھا اور انہیں شاید اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ انہیں ان کے پلاٹ کا قبضہ کبھی نہیں ملے گا کیونکہ 6 دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی یہ کیس اس وقت سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہے۔عبدالوحید ان 20 لاکھ افراد میں سے ایک ہیں جن کے کیسز پاکستان میں ضلعی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک زیر التوا ہیں۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دوبارہ بحال ہونے کے بعد لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب ان کے کیسز جلد سنے جائیں گے لیکن غیر ضرور التوا، دوبارہ سماعت اور سست روی نے ان امیدوں کا بھی دم توڑ دیا۔پاکستان میں مالی معاملات کے کیسز میں فریقین کو دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور کبھی تو درخواست گزار کی تیسری نسل کے سامنے کیس کا حتمی فیصلہ آتا ہے۔عبدالوحید کے کیس میں پلاٹ کے مالک نے عدالت میں اعتراض لگایا کہ ان کی زمین متروکہ املاک ہے جسے فروخت نہیں کیا جاسکتا، تاہم پھر بھی عدالت نے 7 جولائی 1960 میں اس جائیداد کا فیصلہ خریدار کے حق میں دے دیا تھا۔6 سال بعد 6 فروری 1966 کو یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ عبدالوحید کے حق میں دے دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے دو تہائی مالکانہ حقوق متروکہ املاک کے طور پر برقرار رکھے تھے۔لاہور ہائی کورٹ میں یہ فیصلہ 18 جون 1968 کو چیلنج کیا گیا اور مارچ 2001 میں درخواست مسترد کردی گئی تاہم 2007 سے دوبارہ سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔اسی طرح ایک اور کیس میں 1947 میں ہندوو¿ں اور سکھوں کی جانب سے راولپنڈی میں چھوڑی گئی 267 جائیدادوں کے ایک ہزار سے زائد ورثا کی دوسری نسل کیس کی پیروی کر رہی ہے۔ سائل آصف بشیر کے مطابق ’میرے والد ان جائیدادوں کے دعوے دار تھے اور وہ 20 سال قبل انتقال کر گئے، اور ان کے انتقال کے بعد سے لیکر اب تک کیس کی پیروی میں کر رہا تھا لیکن اب عمر کے اس حصے میں میں نے کیس کی فائل اپنے بچوں کو دے دی تاکہ وہ اس کیس کی پیروی کر سکیں‘۔انہوں نے بتایا کہ تقسیمِ ہند کے 4 دہائیوں بعد اس کیس کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے ان کے حق میں دے دیا تھا تاہم راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا جس کے بعد سے وہ زیر التوا ہے۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے تمام ہائی کورٹس کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ کیسز کو 3 ماہ کے اندر اندر نمٹائیں۔ لیکن اس پر عملدارامد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔
جبکہ دوسری جانب گذشتہ روز بار کونسل لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے ایک بار پھر اپنی اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تعریف کے پل باندھتے
ہوئے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں شامل جج نہایت قابل اور ایماندار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کی کارکردگی، خود مختاری اور ایمانداری کے حوالے سے زور دار بیان دینا ضروری سمجھا ہے۔ وہ اسی طرح کا بیان گزشتہ ماہ کے دوران ایک تقریر میں بھی دے چکے ہیں جس میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جج کسی دیہات کے بابا کی طرح ہوتا ہے جو سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے ، کسی کے ساتھ زیادتی کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اپنے خطاب میں جسٹس ثاقب نثار نے صرف اپنے بنچ میں شامل ججوں کی انصاف پسندی کی توصیف ہی نہیں کی بلکہ یہ بھی بتایا کہ وہ نہایت قابل اور خود مختار بھی ہیں اور قانون کے عین مطابق فیصلے کرنے پر قادر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جج ہونا آسان کام نہیں ہے اور اس منصب تک پہنچنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کیا چیف جسٹس آف پاکستان کو خود پر یقین نہیں یا وہ بھی ملک میں جاری مباحث سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ ان کا حصہ بننا ضروری سمجھتے ہیں۔ گزشتہ چند برس سے ججوں کے ریمارکس اور ان کی تشہیر کے طریقہ سے ملک کی عدالتوں اور ججوں کے لائم لائٹ میں رہنے کی خواہش کا پتہ چلتارہا ہے۔ حالانکہ ججوں کو شہرت سے غرض نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان کا منصب اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ خود توجہ کا مرکز نہ بنیں۔ کون نہیں جانتا کہ سپریم کورٹ کا جج بننے کے لئے اعلیٰ قابلیت اور وسیع تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ ملک کی اعلی ٰ ترین عدالت سے ہر کسی کو انصاف کی امید کرنی چاہئے اور وہاں پر بیٹھے جج فیصلے کرتے وقت نہ صرف یہ کہ کسی کے عہدہ اور پوزیشن کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے کسی کو اس لئے بھی معتوب کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ متعلقہ شخص کسی خاص عہدہ پر مامور ہے۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کا منصب عدالتی نظام میں ایک ایسا رتبہ ہے جہاں پہنچنے والا شخص شہرت، لالچ اور خوف کا شکار نہیں ہوتا۔ اسی لئے سب لوگ کم از کم سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع کرتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہاں قانون کے مطابق ہی فیصلے ہوں گے اور جج کسی قسم کی ترغیب یا تحریص سے متاثر نہیں ہوں گے۔ جو بات عام طور سے تسلیم کی جاتی ہے اور جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تکریم کی جاتی ہے، اس کے بارے میں شبہ پیدا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جو بھی ایسی کوشش کرتا ہے، اسے خود اس کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ملک کی عدالتیں اگر انصاف فراہم کررہی ہوں اور اگر ان سے باندھی جانے والی توقعات پوری ہورہی ہوں تو نہ تو ججوں کو یہ یقین دلوانا پڑے گا کہ وہ دیانتدار اور انصاف پسند ہیں اور نہ ہی ان کی نیت اور ارادوں پر سوال اٹھانے والوں کی بات کو کوئی اہمیت دی جائے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر عدالتوں کے جج عدالتی فیصلوں کو بہتر بنانے ، انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کا مظاہرہ کرنے کی بجائے تقریروں میں اپنی قابلیت اور قانون پسندی کی دلیلیں دے کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے تو اس سے تو شبہات کو تقویت ہی ملے گی۔ ملک کے کسی نہ کسی کونے میں بیٹھا کوئی لاتعلق شخص ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ جج فیصلے کرنے کی بجائے تقریروں میں اپنے انصاف کی تعریف کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ملک کے ہر ادارے کو آئین کے مطابق اپنا کام کرنا چاہئے۔ اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے لیکن اگر سپریم کورٹ ہی اپنے اقدامات سے آئین کا تحفظ کرنے یا اپنے عمل سے آئینی حدود سے تجاوز کرتی دکھائی دینے لگے تو امید کی رہی سہی کرن بھی ختم ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ ماضی میں جب بھی فوج نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیار سے تجاوز کیا اور ملک کی سیاسی حکومت کو برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت اس اقدام کو درست تسلیم کیا اور پھر فوجی آمروں کے پی سی او پر حلف لے کر آئین کی بجائے ایک آمر کی وفاداری کا اقرار کرنا بھی ضروری خیال کیا۔ جسٹس ثاقب نثار اگر اپنی دیانتداری کی وضاحتیں کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کو امور مملکت سے دور رکھنے اورحکومتی عمال کے کاموں میں مداخلت سے گریز کی پالیسی کو اپنا سکیں اور دیگر اہم اداروں کو بھی آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنے کا پابند کرسکیں تویہی ان کی دیانتداری اور آئین پسندی کا سب سے بڑا ثبوت ہوگا۔ پھر انہیں خود کوئی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی بلکہ عدالتی بالادستی اور غیر جانبداری کی ایسی اعلیٰ مثال جنم لے سکے گی جو ججوں کو تو قابل رشک بنائے گی ہی، ملک کے باقی ادارے بھی اس روایت پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.