پاکستان کی کامیابی،دہشت گردی کی مالی معاونت میں شامل نہیں

38

ٹیررسٹ فنڈنگ کی نگرانی سے متعلق فہرست میں پاکستان کے نام کے ممکنہ اندراج سے متعلق کئی دنوں سے گردش کرنے والی خبروں کے بعد پیرس سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے ہاں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات تسلی بخش نہیں ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرنے والا ایک عالمی ادارہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں جن ملکوں کا ذکر ہے ان میں ایتھوپیا، سری لنکا، سربیا، شام، ٹوباگو، تیونس اور یمن بھی شامل ہیں۔تاہم اس سلسلے میں جاری کی جانے والی فہرست میں پاکستان نہیں ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو تین مہینوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اور ٹیررسٹ فنانسنگ روکنے سے متعلق پاکستانی کی کوششوں کا جائزہ جون کے اجلاس میں لیا جائے گا۔لیکن ،جب ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلامیہ متوقع تھا، کئی بھارتی میڈیا چینلز نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں جاری کیں کہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جن کے مالیاتی معاملات کی نگرانی مطلوب ہوتی ہے۔ بعد ازاں یہ خبریں عالمی میڈیا چینلز پر بھارت اور ان ذرائع کے حوالے سے پھیلنے لگیں جن کا نام پوشیدہ رکھا گیا تھا۔پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس گزشتہ روز ختم ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں باقی امور کے علاوہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں دوبارہ ڈالنے کی تجویز بھی شامل تھی جو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔اس سلسلے میں امریکہ سرگرم تھا اور اسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تائید حاصل تھی۔ جب کہ امریکی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے پاکستانی عہدے داروں نے سرگرم سفارت کاری کی۔ رپورٹس کے مطابق وہ چین، ترکی، خلیج تعاون کونسل اور سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔نگرانی کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے پیرس اجلاس سے چند روز پہلے پاکستان نے حافظ سعید کی فلاحی تنظیموں کو سرکاری تحویل میں لے لیا تھا کیونکہ کئی مغربی ممالک یہ الزام لگا رہے تھے کہ پاکستان میں کالعدم گروپ نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں اور حکومت ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔حافظ سعید کے فلاحی گروپ کو حکومتی تحویل میں لیے جانے کے اقدام سے امریکہ مطمئن نہیں ہوا اور وائٹ ہاو¿س کے عہدے داروں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف امریکی توقعات کے مطابق کارروائیاں نہیں کر رہا۔ وائٹ ہاو¿س کے ڈپٹی پریس سیکرٹری نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو صدر ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔جمعرات کی شام یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ چین اور خلیج تعاون کونسل نے اپنی حمایت واپس لے کر پاکستان کا نام نگرانی کی فہرست میں شامل کیے جانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔یہ افوائیں اتنی توانا تھیں کہ جمعے کے روز پاکستان کے کئی ٹی وی چینل اعلیٰ حکومتی عہدے داروں اور مالیاتی امور کے ماہرین کے حوالے سے یہ کہتے رہے کہ نگرانی کی فہرست میں نام درج کیے جانے کے باوجود قومی معیشت پر اس کے اثرات محدود نوعیت کے ہوں گے۔ جب کہ اکثر اقتصادی ماہرین کی رائے میں غیرملکی سرمایہ کاری اور بینکاری کے نظام پر اس کے قابل ذکر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیںپاکستان کا نام اس سے پہلے 2012 سے 2015 تک اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی فہرست میں نام کا شامل نہ کیا جانا پاکستان کے لیے اپنا گھر درست کرنے اور دہشت گردی کےخلاف عالمی کوششوں میں موثر کردار ادا کرنے کا ایک موقع ہے جس سے اسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ادھر، اسی معاملے پر۔ روبن رافیل کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ’ایف اے ٹی ایف‘ کی ”فہرست پر ڈالے جانے کی تجویز کا مقصد پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائی کو تیز کرنے پر مائل کرنا تھا“۔ان کا کہنا تھا کہ ”اس لسٹ پر ڈالے جانے کے باعث پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں سے لین دین کے معاملات پر یقیناً منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے“۔ایمبیسیڈر رافیل نے باور کرایا کہ ”پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت کی مد میں ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ اگلی بار شاید پاکستان کے لیے معاملات اتنے آسان نہیں ہوں گے“۔واشنگٹن کے تھنک ٹینک ’اٹلانٹک کاو¿نسل‘ سے وابسطہ بھرت گوپلسوامی کا کہنا تھا کہ ”پاکستان اس لسٹ پر نا ڈالے جانے کے باعث فی الحال شرمندگی سے بچ گیا ہے۔ اس لسٹ پر آنا کسی بھی اعتبار سے اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس لسٹ پر نا ڈالے جانے کے
باعث اقتصادی اور مالیاتی معاملات پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات سے بھی بچ گیا ہے۔ اس فہرست پر نام آنے سے اس ملک کے لئے عالمی اقتصادی اور تجارتی منڈیوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں جس کے متعلقہ ملک کی معیشت پر سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ایک ایسا ملک جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا دعویدار ہے، اسے کیوں کر دہشت گردوں کا ہمدرد قرار دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔یہ سوال ملک کا ہر بالغ و عاقل باشندہ اپنے حکمرانوں اور اداروں سے پوچنھے میں حق بجانب ہوگا۔ پاکستان کے شہریوں کو تسلسل سے سرکاری بیانات، عسکری اعلامیوں اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے یہ باور کروایا جاتا ہے پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنے والے ملکوں میں صف اول میں شامل ہے۔ اسی لئے اسے ہزاروں لوگوں کی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے علاوہ اربوں ڈالر کا معاشی خسارہ بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس عظیم نقصان کے باوجود یہ بتایا جاتا ہے کہ پاک افواج کی دلیری اور اعلیٰ پیشہ وارانہ کارکردگی کی وجہ سے پاکستان دہشت گردوں سے جنگ جیتنے والا دنیا کا اکلوتا ملک بھی ہے۔ پاکستانی اپنے طور پر ان اعلانات اور دعوو¿ں کو سن کر اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں اور یہ امید بھی کرتے ہیں کہ دنیا بھی پاکستان کی ان قربانیوں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ لیکن افسوس اور پریشانی کا مقام ہے کہ پاکستان اور اس کی افواج کو یہ عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ ضروات اس امر کی ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان ان امور پر غور کرنے کے ساتھ ختم کرنے کی طرف توجہ دینی ہو گی جو ہمیں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی طرف لیے جارہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.