سفارتکار کے ہاتھوں پاکستانی ہلاک: پاک امریکا روابط پر اثرات؟

22

اسلام آباد میں ایک امریکی سفارت کار کے ہاتھوں ایک پاکستانی کی حالیہ ہلاکت کے بعد ملک میں امریکا مخالف جذبات میں پھر اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے بقول یہ مسئلہ سفارتی سطح پر حل نہ ہوا، تو دوطرفہ تعلقات پھر تلخ ہو سکتے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی سفارت خانے کے اہلکار کرنل جوزف ایمانوئل، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سفارت خانے کے ملٹری اتاشی ہیں، کی گاڑی نے اسلام آباد کے ایک علاقے میں ایک نوجوان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی۔ اس واقعے میں ایک بائیس سالہ نوجوان عتیق بیگ ہلاک ہو گیا تھا جب کہ اس کا کزن اس حادثے میں زخمی ہو گیا تھا۔اس سفارت کار کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں ایک ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرنل جوزف ایمانوئل کا نام پاکستان کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔ اس ایف آئی آر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ کوہسار خالد اعوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ”کرنل ایمانوئل کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، جس میں متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس امریکی سفارت کار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈالا جا چکا ہے۔ وہ اب بحری، بری یا فضائی کسی بھی راستے سے ملک سے فرار نہیں ہو سکتے۔ اب وزارت خارجہ امریکی حکام کو لکھے گی اور اس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔“لیکن عتیق بیگ کے اہل خانہ پولیس کی اب تک کی کارروائی سے مطمئن نہیں لگتے اور وہ مزید قانونی کاروائی کے لیے عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔ عتیق بیگ کے والد محمد ادریس نے اس حوالے سےمیڈیا کو بتایا، ”پولیس نے صرف ایف آئی آر درج کی ہے۔ کم از کم انہیں اس سفارت کار کو تھانے بلانا چاہیے تھا اور جب تک دفترِ خارجہ کے خط کا جواب نہ آتا ، انہیں اس کو وہیں رکھنا چاہیے تھا۔ اب ہم عدالت جا رہے ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کریں گے۔ ہمارا بیٹا بے گناہ مارا گیا۔ ٹریفک سگنل سرخ تھا، پھر بھی اس سفارت کار نے میرے بیٹے کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ ہمیں انصاف چاہیے اور میں امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف بھی ہماری مد د کریں گے۔“اس موضوع پر اب ملک میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی بولنا شروع ہوگئی ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دس اپریل کو پاکستانی قبائلی علاقے میں اپنے ایک خطاب میں اس واقعے کی مذمت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔سیاسی مبصرین اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی انداز میں حل کیا جائے۔ پاکستانی کی سابق سفیر برائے ایران فوزیہ نسرین نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس مسئلے کو سفارتی سطح پر حل کرنا پڑے گا۔ اگر اس اہلکار کے پاس سفارتی کارڈ ہے اور وہ سفارت کار بھی ہے، تو پھر ویانا کنوینشن کے تحت ہم اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔ ہاں اگر امریکا اسے حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کر دے، پھر اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ایک کریمینل کیس ہے، امریکا کبھی بھی ایسا نہیں کرے گا۔“کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو بہت احتیاط سے سنبھالنا ہو گا، ورنہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں فوزیہ نسرین نے کہا، ”کچھ عناصر پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں تلخی چاہتے ہیں، حالانکہ بعد میں وہ عناصر بھی مذاکرات ہی کا راستہ اپنائیں گے۔ تو کیوں نہ وہ راستہ ابھی ہی اپنا لیا جائے۔ معاملے کو اتنا نہ بگاڑا جائے کہ واپسی کا رستہ نہ رہے۔ یعنی اگر اس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور امریکا یہ استثنیٰ ختم نہیں کرتا، تو آپ کیا کریں گے؟ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا
اس مسئلے کو سفارتی انداز میں ہی حل کریں۔ اگر اس میں تاخیر کی گئی، تو مذہبی سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست چمکانا شروع کر دیں گی، جس سے معاملات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے اور یہ بات پاکستان کے لیے بھی اچھی نہیں ہو گی۔“ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو قانون کے مطابق اوسفارتی ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ معاملات احسن طریقے سے حل ہو سکیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.