پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں پر پابندیاں عائد کردیں

191

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں پر سفارتی پابندیوں کے جواب میں پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو ان پابندیوں سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے متعلق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب پاکستانی ہوائی اڈوں پر امریکی سفارت کاروں کے آنے والے سامان کو ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے آرٹیکل 27 کے تحت سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا کیونکہ سفارت کاروں کو سامان کو اسکیننگ کے عمل سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔نئی پابندیوں کے تحت اب پاکستان میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو بھی ایک خاص حد سے باہر جانے کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہو گی۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی اپنی یا کرائے پر لی گئی گاڑیوں پر کالا شیشہ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ زیرِ استعمال گاڑیوں پر اصلی نمبر پلیٹ لگانا بھی لازمی ہوگا۔امریکی سفارت خانے کی آفیشل گاڑیوں پر نان ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ سفارتی اہلکاروں کو کرائے پر عمارتوں کے حصول اور تبدیلی کے لیے بھی اجازت نامہ لینا ہوگا۔اس سے قبل سکیورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان میں امریکہ سفارت خانے اور قونصل خانوں کی گاڑیوں کو غیر سفارتی نمبر پلیٹس استعمال کرنے کی اجازت تھی۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں کو بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر فون سمز جاری نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی وہ بغیر اجازت اپنی رہائش گاہوں اور سیف ہاوسز پر ریڈیو مواصلاتی آلات لگا سکیں گے۔وزارتِ خارجہ نے امریکی سفارت خانے کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے تمام سفارتی اہلکاروں کو ویزے کی مدت پوری ہونے کے بعد قیام اور کئی پاسپورٹس استعمال کرنے کی پہلے حاصل سہولت بھی واپس لی جارہی ہے۔پاکستان نے یہ اقدام امریکہ کی جانب سے اپنی حدود میں تعینات پاکستان کے سفارتی عملے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے جواب میں اٹھایا ہے جن کا اطلاق گزشتہ روز سے ہوگیا ہے۔امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے تحت پاکستانی سفارتی اہلکار سفارت خانے اور قونصل خانوں سے 25 میل کے فاصلے کے اندر رہیں گے اور اگر ا±نہیں 25 میل سے باہر جانا ہو تو انہیں امریکی محکمہ خارجہ سے خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ا±س کے سفارت کاروں کی ایک مخصوص حد سے باہر نقل و حرکت پر پہلے ہی پابندی ہے تاہم پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ ایسا صرف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتِ حال میں دونوں طرف سے کیے جانے والے یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔دریں اثنا گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری عتیق کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ داخلہ کو ملزم کرنل جوزف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے جمعے کو مقتول عتیق کے والد کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔فیصلے میں عدالت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ اس بارے میں دو ہفتوں میں فیصلہ کرے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ ملزم کرنل جوزف کو مکمل سفارتی استثنیٰ بھی حاصل نہیں ہے۔ہلاک نوجوان عتیق کے والد نے وزارتِ داخلہ کو ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دے رکھی تھی جب کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔وزارتِ داخلہ اس سے قبل کرنل جوزف کو بلیک لسٹ قرار دے کر رپورٹ عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔ضروت اس امر کی ہے کہ ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلے کئے جانے چاہیے لیکن بیرون ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہت ساری باتیں اور چیزیں دیکھنی ہوتی ہیں ان اک بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ دیگر ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑئے

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.