ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ، پاکستان کے لئے ”مرگ و زیست“ کا مسئلہ ہے !

62

پاکستان کے بلا تخصیص تمام علاقوں میں پانی بحران روز بروز سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور اس سے متعلق نو منتخب اور بر سر اقتدار حکومت اورمملکت کے مسائل سے وابستگی رکھنے والے ادارے اور شخصیات اس سلسلے میں بار بار سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ آبی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے زور دے رہے ہیں۔ ایوب خان کے عہد میں ملک میں دو بڑے منگلا اور تربیلا ڈیمز تعمیر کئے گئے تھے جو اب تک وسیلہ آب کا کام دے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی پانی کی فراہمی دن بدن کم ہورہی ہے اور اب تو یہ دونوں میگا پراجیکٹ نقائص کی زد میں آتے رہتے ہیں پھر بھی ان کی فعالیت برقرار ہے۔ اس کے علاوہ بھی ملک کے مختلف حصوں میں کچھ اور ڈیمز بھی بنائے گئے ہر چند ہر حکومت نے اس سمت میں اقدامات کئے ہیں مگر وہ ملکی آبی ضرورت کو پورا کرنے میں اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند ہیں اس پر سندھ طاس کے پاک بھارت معاہدے کے مضمرات اور اثرات نے ملک کے لئے لا تعداد مسائل کھڑے کردیئے ہیں بھارت پاکستان کے خلاف اعلانیہ طور پر آبی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے اس بارے میں معاملہ عالمی عدالتوں تک بھی پہنچ چکا ہے بھارتی وزیر اعظم مودی شعوری اور دانستہ طور پر پاکستان کے آبی مسئلے کو سنگین سے سنگین تر بنانے میں کھلم کھلا اپنی بد خواہی کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتا بلکہ لگاتار پاکستان کو صحراءمیں تبدیل کرنے کے نعرے بلند کرتا رہتا ہے۔ اس آبی قلت سے پاکستان میں زراعت باغبانی اور دوسرے شعبوں کی کارکردگی ہر پاکستانی کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہے اس صورتحال کا سپریم کورٹ کے مسٹر چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑی دل گرفتگی کے ساتھ نوٹس لے کر ڈیمز کی تعمیر میں اپنی پاکستانیت کے جذبے سے مغلوب ہوکر پیش رفت کی جس کا عوامی اورحکومتی حلقوں میں سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا اور چیف جسٹس کے عزم اور وژن سے ہم آہنگی کے لئے تدابیر اختیار کرنے کے عندیئے واضح طور پر سامنے آتے رہے ہیں انہوں نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس کے لئے متعدد اقدامات بھی اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس منصوبے کے لئے دس لاکھ روپے کا عطیہ دیا اور اس بارے میں بینک اکاﺅنٹ کھول کر تمام پاکستانیوں بطور خاص صنعت کاروں ، تاجروں دیگر صاحبان ثروت اور اداروں کو متوجہ کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ اس ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز میں اپنا حصہ ڈالیں پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل چیف جسٹس کی تشویش اور اس کے ازالے کے لئے تدابیر اور تجاویز سے قلبی اور عملی جڑت کا مکمل مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں فنڈ میں تیزی سے حصہ ڈالنے کے امکانات توقع سے بڑھ کر حقیقت کے رنگ میں ڈھلتے گئے ہیں۔ چنانچہ اسی حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں اپنے دل کی بات زبان پر لاکر آبی قلت کے مسئلے کو ترجیح نمبر ون بنادیا ہے۔ اور انہوں نے اس کج فہمی کا ذکر بھی کیاکہ جو کام حکومتوں اور سیاستدانوں کا تھا انہوں نے اس پر مطلوبہ توجہ نہ دی اور وہ خاموشی سے آبی بحران کو دیکھتے رہے حالانکہ کسی بھی ملک میں 120 دن کا پانی کا ذخیرہ ہونا چاہئے انہوں نے اس بارے میں چیف جسٹس سے مشاورت کرنے کے بعد سی جے اور پی ایم فنڈ کو یک جا کرنے کا اعلان کردیا ہے اور انہوں نے بطور خاص اووریز پاکستانیوں سے پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے لئے دل کھول کر عطیات دینے کی اپیل کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی کو کم از کم ایک ہزار ڈالر اس فنڈ میں دینا چاہئے معاملے اور فنڈ کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر انہوں نے وزیر اعظم فنڈ کو چیف جسٹس کے کھولے ہوئے اکاﺅنٹ میں ضم کردیا ہے اور اپنے ہی وسائل سے ڈیمز کی تعمیر کے لئے پر جوش عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اگر وزیر اعظم کے اس اعلان کو ملک کی بقاء، سلامتی ، ترقی اور خوشحالی کے تناظر میں دیکھا جائے تو بقول وزیر اعظم کے 5 برسوں میں ڈیم مکمل ہوسکتا ہے چیف جسٹس اور وزیر اعظم کے اعلانات، پیغامات اور تشویش کے اظہاریوں کو ملک اور ملک سے باہر بہت توجہ اور سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ پوری قوم پاکستان کی تعمیر نو کے لئے کمر بستہ ہوچکی ہے اس کے علاوہ بھارت کی آبی جارحیت کا توڑ کرنے کی ہر ممکن کوشش بروئے کار لانے میں وقت کے زیاں کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے بھارت نے جن دریاﺅں پر اپنے علاقے میں ڈیمز بنانے شروع کر رکھے ہیں اس سے عالمی رائے عامہ کو مکمل آگاہی دینی چاہئے بھارت نے صرف خود ہی پاکستان کی اس دشمنی کا برملا طور پر اعلان کیا ہے بلکہ اس نے سرمایہ کاری کی آڑ میں افغانستان کے دریائے کابل اور دوسرے دریاﺅں پر ڈیمز تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس سے ان دریاﺅں کے پانی کا وہ حصہ جو پاکستان کی طرف آتا ہے اس میں خاطر خواہ حد تک کمی واقع ہوجائے گی جس سے پاکستان کے قبائلی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے بعض حصے شدید متاثر ہوسکتے ہیں کسی زمانے میںپاکستان کو بطور خاص پنجاب اوربلوچستان کو اناج کا گھر کہا جاتا تھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بھارتی پنجاب کا وزیر اعلیٰ لاہور آکر حیرت سے یہ اعلان کرتا ہے کہ مجھے یہاں آکر گندم کی قلت کا سن کر بہت افسوس ہوا ہے ہمارے ہاں تو جانور تک گندم کے وافر ہونے کی وجہ سے اس فصل کو زیادہ توجہ سے نہیں کھاتے بلوچستان میں نصیر آباد کا علاقہ کسی زمانے میں ڈالر کا علاقہ کہلاتا تھا اور یہاں سے گندم اور چاول مشرق وسطیٰ کے ممالک کو برآمد کیا جاتا تھا اس میں اب کافی کمی ہوگئی ہے جس سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوگیا ہے اس طرح صوبے کے پشتون علاقوں میں فصلوں کے کھیتوں کے ساتھ ساتھ باغبانی کو شدید نقصان پہنچنے میں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشتکار اور باغبان یہ پیشہ چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بھی تربت کے علاقے میں میرانی ڈیم کا بڑا منصوبہ تھا اس کے لئے ڈیم کے راستے میں آنے والے علاقوں کو آبادی سے خالی کرالیا گیا اس طرح ہزاروں لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے پوری متاثرہ آبادی کے بیشتر حصے کو معاوضہ کی ادائی میں تعطل پیدا ہوتا رہتا ہے سندھ کے وڈیروں اور جاگیرداروں نے دریائے سندھ سے بلوچستان کے لئے جتنا کوٹہ مقرر ہوا تھا اس پر قبضہ کرکے بلوچستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا آج اس علاقے کے زمیندار کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگئے ہیں۔ اور بقول وزیر اعظم عمران خان اگر ہم نے آبی قلت کا موثر اور پائیدار حل تلاش کرکے اس کو عملی شکل نہ دی تو 7 سال کے بعد پینے اورفصلوں کے لئے پانی نہیں ہوگا۔ قبل اس کے کہ خدانخواستہ وہ مرحلہ آئے پاکستان کے بلا امتیاز اور بلا تخصیص ہر شخص کو اس مسئلے کو اپنے لئے مرگ و زیست کا معاملہ قرار دے کر اس سے مثبت انداز میں نجات کے راستے پر گامزن ہونے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ بلوچستان کے حوالے سے یہ اموربھی پریشانی کا موجب ہے کہ دوسرے صوبوں کی نسبت اس صوبے میں بارشوں کی شرح بہت کم ہے جس کی وجہ سے اس کے بشیتر علاقے خشک اور قحط سالی کی زد میں آتے رہتے ہیں بارشوں کی کمی کے بارے میں محکمہ موسمیات نے تازہ ترین وارننگ جاری کی ہے اور اس بارے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 9 شہروں کے لئے خشک سالی کا قوی امکان ظاہر کیا ہے اس خشک سالی سے دالبندین، نوکنڈی، گوادر، پسنی اورماڑہ ، تربت اور جیونی کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بلوچستان کو بھی آبی قلت سے چھٹکارا دلانے کے لئے تدابیر کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.