وفاقی حکومت نے 172 ای سی ایل کے نام جائزہ کمیٹی کے سپرد کر دئیے

53

وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس بدھ کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بہت اہم فیصلے کئے گئے ۔ اجلاس کے خاتمے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اجلاس ہذا میں کئے گئے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دی گئی اس بریفنگ کے دوران انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی کی سفارش پر ای سی ایل میں ڈالے گئے 172 افراد کے نام فوری طور پر نکالنے کی بجائے یہ معاملہ نظر ثانی کے لئے وفاقی وزارت داخلہ کی ای سی ایل جائزہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مواد کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات اگلے ہفتے کابینہ کو پیش کرے گی جس پر وفاقی کابینہ کے مجوزہ اجلاس میں غور کیا جائے گا جس کے باعث یہ 172 افراد فی الحال ای سی ایل پر ہی رہیں گے اور بیرون ملک سفر نہیں کر سکیں گے ۔ وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ 172 افراد کے نام ای سی ایل میں کیوں اور کس جواز کے تحت ڈالے گئے ہیں اس موقع پر انہوں نے اپنے اظہاریہ سے کم از کم ٹی وی چینل دیکھنے والوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ حکومت اپنی غلطی کا ازالہ کرے اور اس سلسلے مین اس معاملہ پر نظر ثانی کرے جس کا مطلب ایک ضابطہ کار کی پاسداری کے تقاضے پورے کرنا لگتا تھا لیکن وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس صاحب کے باقی کے خیالات سے شاید غیر شعوری طو رپر صرف نظر کرتے ہوئے ان کے نظر ثانی کرنے کے الفاظ کو اپنے لئے مشعل راہ بنا لیا اب آئینی حلقے کے سوچ رہے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب یہ 172 نام ای سی ایل سے نکالے کے تاثر کے برعکس نظر ثانی کی لفظی ترکیب کو اہمیت دے کر اس معاملے کو جائزہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جائزہ کمیٹی کا فیصلہ بظاہر چیف جسٹس صاحب کے تاثر کے برعکس ہوا تو کیا یہ سپریم کورٹ کی مرضی اور خواہش سے متصادم قرار نہیں پائے گا ۔ نظر ثانی کے عمل کا خالصتاً نتیجہ وہی برآمد ہونا چاہئے جو کہ چیف جسٹس صاحب کے اظہاریہ کے تاثرسے قائم ہوا تھا ۔ آئینی ماہرین نے یہ نقطہ بھی پیش نظر رکھا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کے نظر ثانی کے الفاظ کا سہارا لے کر اس معاملے کو کم از کم ایک ہفتے کےلئے موخر کر دیا ہے اس کی بے شک مختلف تاویلیں کی جائیں لیکن نظر ثانی کے بعد بھی تاثر وہی صائب ہو گا جو چیف جسٹس صاحب نے کیس کی سماعت کے دوران ظاہر کیا تھا ۔ وفاقی کابینہ نے اپنے مذکورہ بالا اجلاس میں اس معاملے کے علاوہ بھی متعدد معاملات پر غور کیا اور فیصلے کئے مثال کے طور پر وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز کے اضافے ، غربت مٹاﺅ ،اداروں کو یکجا کر کے غربت مکاﺅ کوآرڈیننس کونسل کے قیام ، گڑ کی پیداوار اور برآمدات پر عائد پابندی اٹھانے ، پشاور میٹرو کے لئے 130 ملین یورو کے قرض ، تیل اور گیس کی ڈرلنگ کے لئے ہیوی مشینری پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے ، کراچی میں فاق کے فنڈز سے تعمیر ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے قیام ، ایف سی بلوچستان کے شمالی اور جنوبی ہیڈ کوارٹرز کی تشکیل کے لئے 283 بلین کے اجراءاور حویلی بہادر پاور پراجیکٹ سمیت ڈیونٹس کو نجکاری کی ترجیح میں شامل کرنے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں لینڈ بینک کی تشکیل کے لئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی ہے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شماریات ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ وہ روزمرہ ضروریات کی اشیاءبالخصوص پھل اور سبزیوں کی قیمتوں کے بارے میں اپنی ہفتہ وار رپورٹ کابینہ کو پیش کرے انہوں نے دیگر معاملات سے متعلق فیصلوں کے بارے میں بھی یہی بتایا کہ وفاق کراچی میں ترقی کے لیے اومنی گروپ پر بھروسا نہیں کرسکتا، 2 ہزار ارب روپے جو سندھ کے عوام پر لگنے تھے وہ دبئی اور لندن میں خرچ ہوئے، وفاقی حکومت نے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس کی نگرانی میں وفاق کا پیسا کراچی سمیت سندھ بھر میں خرچ ہوگا،تیل وگیس کی تلاش کے لیے مشینری پرڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے وزارت شماریات کو حکم دیا ہے کہ مہنگائی کے معاملے پر ایک میکنیزم بنایا جائے ۔ وزارت شماریات مہنگائی کی صورتحال پر ہر ہفتے کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ 75منڈیوں اور 40شہروں کو مانیٹرکیا جائے گا۔ ای سی ایل میں شامل کیے گئے 172افراد کے ناموں سے متعلق سپریم کورٹ نے ازسرنو جائزہ لینے کا کہا تھا ۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا پورا طریقہ کار ہے۔ متعلقہ ادارہ سفارشات وزارت داخلہ کو بھجھواتا ہے اور وزارت داخلہ وہ سفارشات کابینہ میں پیش کرتا ہے جس کے بعد نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ کسی مجرم کی تحقیقات شروع کی جائے تو جرم میں ملوث افراد کو ملک سے فرار کرا دیا جاتا ہے۔ اس کی بدترین مثال سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہیں جن کو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے جہاز میں ملک سے فرار کروایا ۔ ملزم کو فرار کروانے پر سپریم کورٹ کو شاہد خاقان عباسی کو بھی نوٹس دینا چاہیے تھا۔ حکومت 172افراد کے نام ای سی ایل ریویو کمیٹی کو بھیجے گی جو اگلے ہفتے رپورٹ پیش کرے گی۔ علاوہ ازیں حویلی بہادر شاہ ، ماڑی پٹرولیم ، لاکھڑا کول مائنز اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی کابینہ نے ترجیح بنیادوں پر نجکاری کی فیصلہ کیا ہے۔ وہ زمین جو وفاق اور صوبوں میں غیر استعمال شدہ ہے اس کو استعمال میں لایا جائے گا۔ وفاق میں 9442کنال ، پنجاب میں 56ہزار کنال اور خیبر پختونخوا میں 5258کنال زمین ضائع ہورہی ہے جس کو استعمال میں لایاجائیگا۔ اس حوالے سے پرویزخٹک کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز میں تین ججوں کا اضافہ کیا ہے اب اسلام آبا دہائی کورٹ کے نو ججز اور ایک چیف جسٹس ہونگے۔ غربت میں کمی لانا حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے۔ موجودہ اسکیمیں جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، بیت المال ، ای او بی آئی ، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام اور صوبائی اسکیموں کے تحت کئی منصوبے چل رہے ہیں۔ حکومت نے ان تمام اسکیموں کو ایک ادارہ انسداد غربت کونسل بنا کر ان میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہونگی۔ کابینہ نے ڈرلنگ مشینری پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کرے گی۔ پی ٹی آئی کو کراچی سے بھاری مینڈیٹ ملا ہے اسی لئے کراچی کے لوگوں کی محرمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کراچی میں ترقی کیلئے اومنی گروپ پر بھروسہ نہیں ہوگا۔ زرداری گروپ آف کمپنی نے سندھ کے 2ہزار ارب روپے سے لندن اور دبئی میں محلات خریدے ۔ وہ لوگ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی باتیں کررہے ہیں جنہوں نے کبھی نجی ہوائی جہاز میں سفر نہیں کیا تحریک نظریے پر چلتی ہے جھوٹ پر نہیں۔ 172 افراد کے ای سی ایل میں شمولیت سے متعلق جو ابہام ابھرا ہے اس کے بارے میں فواد چوہدری نے اپنی بریفنگ کے دوران طریق اورجزئیات کے تقاضے بیان کر دئیے ہیں ۔ کابینہ نے بطور خاص کرانی کے حوالے سے اشیاءکی قیمتوں کو مانیٹر کرنے کے لئے ہفتہ وار رپورٹ طلب کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ کے بارے میں معلومات ہونے کی بناءپر حکومت ٹھوس اور موثر انسداد اقدامات کرے گی تو اس سے عوام کو گرانی کے عفریت سے رفتہ رفتہ نجات حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوتی جائے گی چونکہ جمعرات کی شب حکومت سندھ اور بعض میڈیا نے جو تاثر دیا کہ وفاق نے حکومت سندھ کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق پیسے دینے سے انکار کیا ہے اس ابہام کا ازالہ بھی بریفنگ میں دی گئی تفصیلات سے ہو گیا ہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کے مختص فنڈز کوآرڈینیشن کونسل کی نگرانی میں صرف ہونگے اسی طرح دیگر پراجیکٹس کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات کے خاتمے کے حوالے سے بھی اقدامات کئے گئے ہیں تا کہ پراجیکٹ بروقت مکمل ہو سکیں اور فنڈز کے زیاں کا احتمال نہ رہے ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.