لیٹروں کو این آر اودینا ملک سے غداری کے مترادف ہے، وزیر اعظم عمران خان

34

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ہفتے کے روز بلوکی کے مقام پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو این آر او دنیا ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا جو بھی یہ سوچ رہا ہے کہ حکومت ان کو این آر او دے گی وہ جان لیں کہ یہ ملک سے غداری ہوگی اس لئے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ حکومت این آر او ان کو دے ہم نے سب کچھ دیوالیہ نکالنے اور کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑنا کبھی جمہوری تاریخ میں ایسا ہوا ہی نہیں ہے کہ جیل سے ایک آدمی اٹھ کر آئے اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اور وہ پھر اسی نیب کو طلب کرے میں آج کہہ رہا ہوں کہ ہم نے پارلیمنٹ چلانے کی جتنی کوشش کرنی تھی وہ کرلی اب کسی کرپٹ آدمی کو کوئی رعایت نہیں دیں گے حکومت کو تین ماہ ہوئے جو اس کے تین وزراءاستعفیٰ دیں یہ تبدیلی ہے یہاں ان کی اربوں روپے کی چوری جعلی اکاﺅنٹس مردہ افراد کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپے نکل آتے ہیں۔ وزیر اعظم نے جنگلات کی لیز پر دی جانے والی تمام زمین فوری واپس لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ پہلے بھی ملک میں جنگلات کی قلت ہے اور ایسے موقع پر جنگلات کی زمین لیز پر نہیں دی جا سکتی ۔ تحریک انصاف حکومت نے جنگلات کی زمینوں پر قبضہ گروپوں سے قبضہ چھڑایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جنگلات لگائے جا سکیں کیونکہ درخت لگانا شوق نہیں بلکہ ملک بھر کا مستقبل ہے ۔ پاکستان اس وقت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی میں آٹھویں نمبر پر ہے جو سب سے زیادہ خطرے والا ملک ہے اگر اسی طرح موسم پاکستان میں گرم رہا تو بچوں کے لئے یہاں پر رہنا مشکل ہو جائے گا دریا¶ں میں پانی کم ہو جائے گا اور شہروں میں آلودگی بڑھ جائے گی ۔ عمران خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان درختوں کی کٹائی کو روک کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو سنواریں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کل این آر او کی بڑی باتیں ہو رہی ہیں ۔ این آر او کا مطلب ہے کہ بڑے بڑے مجرموں کو معاف کر دیا جائے ۔ پہلے بھی ملکی تاریخ میں 2 این آر او سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔ جس میں پہلا این آر او جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 2000 ءمیں 10 سال کے لئے نواز شریف کے ساتھ کیا اور حدیبیہ پیپر مل کرپشن کیس میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کے باوجود مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لئے نواز شریف کو سعودی عرب بھیج دیا ۔دوسرا این آر او امریکیوں کے کہنے پر آصف علی زرداری کے ساتھ سرے محل کا کیا اور 2 ارب روپے بھی سوئٹرز لینڈ کیس لڑنے پر خرچ آئے وہ بھی ضائع ہو گئے ۔ ان دونوں این آر او کے نتیجے میں دونوں کرپٹ لیڈر 5، 5 سال کے لئے دوبارہ اقتدار میں آئے اور 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا کیونکہ ان دونوں کرپٹ لیڈروں کو خوف ہی نہیں تھا کہ جتنی چوری کرو کوئی نہیں پکڑے گا ۔جس سے ملک تاریخی خسارے کی طرف دھکیل دیا گیا اور آج پوری قوم اس خسارے کی وجہ سے مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ آج جب میں ٹی وی پرایسی شکلوں کو دیکھتا ہوں کہ جنہوں نے ملک کا ستیاناس کر دیا وہ تحریک انصاف سے 6 ماہ کے نتائج مانگتے ہیں ۔ اس لئے واضح کر دوں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا اگر کسی کرپٹ کو این آر او دیا تو ملک سے غداری کے مترادف ہو گا ۔عمران خان نے کہا کہ کسی جمہوریت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی جیل سے اٹھ کر سیدھا پبلک اکا¶نٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اور پھر نیب کو طلب کر لے ۔ ہم پارلیمنٹ کو چلانے کے لئے ایسا کر رہے تھے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا ۔جنہوں نے اربوں روپے چوری کئے ۔ دبئی میں ڈرائیورز کے نام پر 5 ، 5 گھر بنائے اور مرے ہوئے لوگوں کے نام پر اکا¶نٹ بنا کر اربوں روپے منتقل کئے ۔وزیر اعظم تقریب کے آخر میں بلوکی وائلڈ لائف پارک کو بابا گرونانک کے نام سے بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر بابا گرونانک کے نام سے یونیورسٹی بھی بنائیں گے کیونکہ تعلیم سے منور ہونا زندہ قوموں کی نشانی ہے اور پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق دیئے جائیں گے تاکہ ان کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں جس طرح کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا رویہ رکھا جاتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب سکھوں کے لئے کتنے مقدس ہیں ہم جانتے ہیں ۔ بابا گرو نانک کی 585ویں برسی پر ایک بڑی تقریب منعقد کرائیں گے ۔چند دنوں سے حکومت اور اپوزیشن میں زبردست قسم کی رسہ کشی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے میں پوری صلاحیتیں صرف کرنے کا سیاسی بد نصیبی سے غیر معمولی حد تک پروان چڑھ گیا ہے جس طرح ہمارے ملک میں سیاستدان ایک دوسرے کے عیبوں ، برائیوں اور غیر قانونی حرکات کا سراغ لگاکر سر عام سیاسی کارنیوال لگاتے ہیں اس سے ملک و قوم کو توجو نقصان پہنچتا ہے وہ پہنچ رہا ہے اس صورتحال سے عوام میں بیزاری اور مایوسی کے جذبات اور احساسات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت اس مملکت خدا داد کو خدانخواستہ ”میدان جنگ“ میں تبدیل کرنے کو ملک اور قوم کے مفادات کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ حکمرانوں پر چونکہ زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کا تقاضا سیاسی ، اخلاقی اور فکری طور پر یہی بنتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی روش کو نظر انداز کرنے کا مہذبانہ اور فراخدلانہ رد عمل ظاہر کرکے سیاست میں برداشت تحمل، بردباری اور صبر کی نئی مثالیں قائم کرکے اپنے لئے اعلیٰ مقام مختص کرنے کو رضا کارانہ شعوری مظاہرہ کریں اس سے لازماً یہ نتیجہ تو بہر صورت نکل سکتا ہے کہ دوسری جانب سے مثبت سوچ اور شائستہ عمل کے حامی ابھر کر منظر نامے کو شائستگی میں بدلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اب شہباز شریف کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لئے گرین سگنل خود وزیر اعظم عمران خان نے دیاتھا اور پھر ان کے وفاقی وزیر اور ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس اور اسمبلی فلور پراس کا اعادہ کیا اور اپنے وزیر اعظم کی تائید اور حمایت کا عندیہ دیا کہ حکومت نے اپوزیشن کا اس بارے میں مطالبہ مان لیا ہے اب جبکہ شہباز شریف نے اپنے رویہ اورعمل سے ایسے شواہد اور بانیے سامنے رکھ دیئے ہیں جو حکومت کے مفادات سے متصادم ہیں تو ہمارے ملک کے سیاسی ضابطہ اخلاق میں کسی طور پر بھی قبول کرنے کی روایت نہیں ہے وزیر اعظم نے لٹیروں کا نام لئے بغیر ان کو این آر او دینے کو ملک سے غداری قرار دیا ہے مگر وزیر اعظم سے ایک روز پہلے ان کے وفاقی وزیر گنڈا پورنے تو سر عام ٹی وی چینل پر میاں نواز شریف پاکستان کے غدار سے بار بار موسوم کیا گویا اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی ایک غالب اکثریت کی رائے کو طشت ازبام کرکے سیاسی مبارزت کا راستہ کھول دیا اس بارے میں اپوزیشن کی جانب سے بھی کسی اخلاقی ضابطے یا سیاسی اور جمہوری تقاضوں کی پاسداری کا تاثر نہ سامنے آسکا وزیر اعظم جس این آر او کو ملک غداری سے تعبیر کرتے ہیں اس کے بارے میں بیانات تو اب وزیر عظم اور اس سے قبل ان کے بعض وزراءکی طرف سے ہوتا رہا ہے جبکہ اس کے جواب میں اپوزیشن نے بار بار یہ دریافت کیا کہ حکمران ان افراد کے نام لے کر بتائیں کس نے این آر او کے لئے رجوع کیا ہے اگر حکومت کے نزدیک یہ طلب یا عطاءوطن کی غداری کے مصداق ہے تو ان کے نام اب تک اس ملک کے عوام سے کیوں چھپائے جارہے ہیں بلکہ اب تو یہ معاملہ اس نہج پر آن پڑا ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں نے ان مسائل کو اپنے لئے چیلنج سمجھ لیا ہے اور ہر وہ اقدام کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جس کو کرنے کا ان کا عزم پختہ ہے اور وہ اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اقتدار کی پاسداری کے لئے لازم سمجھ رہے ہیں اب اس وقت میدان میں اپوزیشن کے متعدد لیڈرز بھی سرگرم عمل ہیں۔ دونوں جانب سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا طریقہ استعمال ہورہا ہے ان میں پی پی پی کے آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف رانا، ثناءاللہ، مریم اورنگزیب چند ایک دوسرے بھی اپنے ہاتھ مخالفین کے گریبان تک پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں زرداری صاحب کا یہ اعلان قابل غور ہے کہ اب کوئی بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔ اپنے حق کے لئے لڑیں گے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے مخالفین کی صفوں میں ایسے حضرات ہیں جو پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں مریم اورنگزیب نے تو یہ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی کہ علیمہ خان سے این آر او تو ہوچکا اب ڈرامہ کیوں کیا جارہا ہے نیب عمران خان کو گرفتار کرے محترمہ کو یہ بھی تو معلوم ہوگا کہ انہیں گرفتار کرنے کے لئے وزیر اعظم کو اپنے سوا کسی اور سے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں پی پی پی کی لیڈر ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے یہ تک کہہ ڈالا کہ کرپشن عمران خان کو ورثے میں ملی ہے یہ خود چندہ اور چوری پر گزارا کرتا رہا ہے اخبارات کے صفحات اورٹی وی چینلز کی سکرینیں طرفین سے اسی طرح کی الزام بازی اور ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی کے لئے الاٹ ہوچکی ہیں اور اس ملک کے غریب عوام کی اکثریت اس صورت میں ماتھا پکڑے بیٹھی ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.