دل کا دورہ کیسے پڑتا ہے؟

26

 جب دل کے کسی حصے کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اسے دل کا دورہ یا انجماد خون کہتے ہیں۔ دورہ عموماً منجمد خون کے ایک قتلے یا کلاٹ کے سبب ہوتا ہے جو کسی رگ میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ یہ رکاوٹ رگ کے اس علاقے میں خون کے بہاؤ یا دوران میں مخل ہوتی ہے۔ وافر مقدار میں آکسیجن نہ ملنے سے قلبی عضلہ کا متعلقہ حصہ مجروح ہو جاتا ہے اور معمول کے مطابق کام نہیں کر پاتا۔ یہ کام کرنا بند کردیتا ہے۔
تھرومسبس یعنی منجمد خون کا قتلہ عموماً رگ دل کے کسی تنگ حصے میں ہی بنتا ہے۔ رگ کی یہ تنگی اتھیرو اسکلیروسس کے سبب ہوتی ہے۔ یہ ایک عمل ہے جس میں آہستہ آہستہ طویل مدت میں چربی کی چھوٹی اور باریک تہیں رگوں کی اندرونی دیواروں پر جم جاتی ہیں۔ جب رگ دل 70 فیصد زیادہ تنگ ہو جاتی ہے تو قلبی عضلے یا پٹھے کو آکسیجن کافی نہیں پہنچ پاتی۔ جسمانی ورزش یا دماغی محنت یا زور کی کیفیت میں جب دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنی ہوتی ہے تو آکسیجن کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
قلبی پٹھے میں آکسیجن کی ناکافی رسد مندرجہ ذیل علامات سے ظاہر ہوتی ہے: سینہ کا درد یا بے آرامی (اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سینہ جکڑ گیا ہو یا بھنچ گیا ہو یا درد ہوتا ہے۔) بلا کسی سبب پیٹ یا سینے میں گیس کی زیادتی سے بے چینی کا احساس ہوتا ہے۔ سانس پھولنا، اچانک شدید کمزوری یا نقاہت محسوس کرنا، پسینے پسینے ہو جانا یا چکر آنا۔سینے میں اس قسم کے درد یا بے آرامی کو طبی اصطلاح میں وجع قلب یا درد دل ( Angina Pectoris ) کہتے ہیں۔ اس طرح کی بے آرامی دل کا دورہ پڑنے سے ہفتوں، مہینوں یا برسوں پہلے ہو سکتی ہے۔ ایسی شکایت ہونے پر اگر آپ کے ذہن میں کوئی شک و شبہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
دل میں درد (انجائنا) ہوئے بغیر بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگ برسوں انجائنا میں مبتلا رہتے ہیں لیکن ان پر دل کا دورہ کبھی نہیں پڑتا۔ بعض اوقات دل کے دورے کیلئے   مایوکارڈیال انفارکشن   کے بجائے   کارونری تھرومبوسس   کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایک یا کئی رگوں کی نالی اتھرواسکلیروسس یعنی چربی کے بتدریج جمع ہو جانے سے کئی جگہ پر تنگ ہو جاتی ہے۔ یہ صورت ایسی تنگ جگہوں پر خون کے جمنے اور قتلہ بننے یا گرہ پڑنے میں بڑی آسانی پیدا کر دیتی ہے۔ تھرومبوسس کے معنی ہیں قتلے کا بننا یا گرہ پڑنا۔ اس قسم کا قتلہ بننے کی وجہ سے رگ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے رگ کے علاقے میں قلب کے پٹھے میں خون کا دوران یا تو بہت ہی زیادہ کم ہو جاتا ہے یا بالکل بند ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آکسیجن کی سپلائی کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل کا دورہ پڑتا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.