ذیابیطس کی یہ دوا الزائیمر کا علاج بھی کرسکتی ہے

11

 لندن: برطانیہ اور چین کے ماہرین نے چوہوں پر تجربات کے بعد کہا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کےلیے استعمال کی جانے والی ایک نئی دوا دماغ کو الزائیمر کے مرض سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

تحقیقی جریدے ’برین ریسرچ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹرپل ایکشن دوا جب چوہوں کو دی گئی تو اس نے یادداشت میں کمی کو دور کرکے اسے بحال کیا۔ ان چوہوں کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا تھا تاکہ وہ الزائیمر کے مریض بن سکیں۔

لنکاسٹر یونیورسٹی میں صحت و ادویہ کے پروفیسر اور اس مطالعے کے سربراہ ڈاکٹر کرسچیان ہوئیلشر کہتے ہیں ’یہ دوا واضح طور پر الزائیمر جیسے اعصابی تنزلی کے امراض کا ایک نیا علاج ثابت ہوسکتی ہے۔‘

واضح رہے کہ الزائیمر میں دماغی خلیات دھیرے دھیرے ختم ہوتے ہیں اور 50 سے 75 فیصد معاملات میں یہ ڈیمنشیا کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کے بعد مریض سوچنے، یاد رکھنے، فیصلہ کرنے، اپنا خیال رکھنے اور گفتگو کرنے میں شدید دقت محسوس کرتا ہے جبکہ سخت حملے میں وہ اس سے مکمل معذور ہوجاتا ہے۔

یہ مرض دھیرے دھیرے بڑھتا ہے جہاں دماغ میں کیمیائی اور حیاتیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن سے دماغی خلیات سکڑ کر مرنے لگتے ہیں۔ اب تک الزائیمر کی مکمل وجوہ سامنے نہیں آسکی ہیں جبکہ خیال ہے کہ دماغ میں فاسد مواد اور زہریلے مرکبات جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

دنیا بھر میں ڈیمنشیا اور الزائیمر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ 2015ء میں ساڑھے 4 کروڑ سے زائد افراد اس کا شکار تھے جبکہ 2050ء میں یہ تعداد 13 کروڑ ہوجائے گی۔

اس دوا کو ’ٹرپل ایکشن‘ ایک خاص وجہ سے قرار دیا گیا ہے۔ پروفیسر کرسچیان کے مطابق یہ دوا ایسے پروٹین سرگرم کرتی ہے جو تین اہم کاموں کے سگنل کو بڑھاتے ہیں یعنی گلوکوجن جیسے پیپٹائیڈ ون، گلوکوز پر انحصار کرنے والے پولی پیپٹائیڈ اور گلوکاگون کو دماغی خلیات میں داخل کرتی ہے اور دماغ کو مزید تباہی سے بچاتی ہے۔

جب یہ دوا الزائیمر کے شکار چوہوں میں داخل کی گئی تو انہوں نے ذہنی صلاحیت اور یادداشت کے ٹیسٹ میں دیگر کے مقابلے میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ ان کے خلیات کا باہمی رابطہ بھی بہتر ہوتا دیکھا گیا۔ اب اس دوا پر مزید تحقیق کی جارہی ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.