جو کے کثیر فوائد

30

لاہور : گندم کی طرح جَو بھی ایک جنس ہے۔ خوردنی اجناس میں سے مکئی کے ساتھ ساتھ جو کے آٹے کو خوراک کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جو کے آٹے کی غذائی اہمیت گندم کے آٹے کے برابر ہے اور کیا اسے گندم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اسے گندم کے آٹے کے دستیاب نہ ہونے پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے یا ساراسال استعمال کرسکتے ہیں؟

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر جو کی غذائی اہمیت کے متعلق آگاہی ہو جائے تو ہم نہ صرف جو کی غذا کو اپنی خوراک میں بطور سپلیمنٹ شامل کر لیں بلکہ اس کی افادیت کے پیش نظر جو کو اہم ترین جزو بنا لیں گے۔ جو کے دانے میں پانی، نائٹروجن مرکبات، گوند، چینی اور چکنائی کی معمولی مقدار کے علاوہ 59 فیصد سٹارچ ہوتا ہے جو خون کے اندر کولیسٹرول کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جو جسم کو فربہ نہیں ہونے دیتا یعنی جسم کو چست و سمارٹ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جو میں تانبا موجود ہے جو بڑھتی عمر کے افراد میں جوڑوں کے درد کو ختم کرتا ہے۔ اس میں سیلیئم جیسا ایک ایسا دھاتی عنصر ہے جو انسان کو چھوٹی آنت کے کینسر سے تحفظ دیتا ہے۔ اس میں فاسفورس بھی ہے جو اے ٹی پی یعنی اڈینوٹرائی فاسفیٹ کی صورت توانائی بہم پہنچاتا ہے۔

یہ فائبر کا بنیادی عنصر بھی ہے جو آنتوں میں تیزی سے حرکت کرتا ہے اسی کی مدد سے خون ہر وقت تازہ اور صاف رہتا ہے اور خون کے کلاٹ نہیں بنتے۔ فائبر کے جسم کے اندر ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ جسم سے بائل ایسڈ کا اخراج کم کرنے میں اہم کر دار ادا کرتا ہے جس سے پتے میں پتھری ہونے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ جو کے آٹے کی روٹی، دلیہ، جو کا پانی اور ستو وغیرہ کے لیے میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ حل پذیر ریشے یعنی سالوایبل فائبر کے اعلیٰ ترین ذرائع کے ساتھ ساتھ متعدد مینٹی ایسڈز اور امینو ایسڈ موجود ہیں۔

ایک مخصوص امینو ایسڈ لائیسین بھی موجود ہے جو قد بڑھانے میں پیش پیش رہتا ہے یعنی بڑھتے ہوئے بچوں کو جو کا دلیہ یا روٹی کھلائی جائے تو ان کا قد بڑھ سکتا ہے۔ یہ روٹی رنگ گورا کرتی ہے۔ مردانہ وجاہت ابھارتی ہے۔یہ بھوک مٹاتی ہے اور پیاس بجھاتی ہے۔ ذہانت اور غوروفکر کو تحریک دیتی ہے۔ آواز کو دلکش اور سریلا کرتی ہے۔ حس سماعت اور بصارت کو تقویت بخشتی ہے۔ زہریلی رطوبتوں کا اثر زائل کرتی ہے۔ موٹاپا دور کرتی ہے۔ جسم کی چربی کو پگھلاتی اور خون کو شفاف تر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.