کاربوہائیڈریٹ کی کمی کے اثرات

28

لاہور : اول تو ہمارے جسم میں کاربوہائیڈریٹ کی کمی ہونے نہیں پاتی کیونکہ ہماری بنیادی خوراک اناجوں پر ہی مشتمل ہوتی ہے جو کاربوہائیڈریٹ کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ سبزیوں، پھلوں، گنے، گڑ، چینی اور میٹھی چیزوں کی صورت میں بھی ہماری خوراک میں اس قدر کاربوہائیڈریٹ شامل ہوتے رہتے ہیں کہ ان کی کمی کی بجائے کاربو ہائیڈریٹ کی زیادتی کا امکان زیادہ ہونے لگتا ہے۔

لیکن اگر   غذائی توہمات   لاعلمی یا غلط علم کی وجہ سے خوراک میں سے کاربوہائیڈریٹ کا استعمال قلیل یا منہا کر دیا جائے تو اس کے نتیجہ میں درج ذیل برے اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں:
1- جسم میں کمزوری اور لاغرپن پیدا ہونے لگتا ہے۔
2-جسم کو قوت اور حرارت مہیا کرنے کیلئے روغنیات اور لحمیات والی غذائیں اپنے مخصوص کام چھوڑ کر کاربوہائیڈریٹ کا کام کرنے لگتی ہیں‘ جس سے کئی نظاموں میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چکنائی اور پروٹین پر انحصار کرنے سے ان میں ضرورت سے زیادہ اضافہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے‘ جو نہ صرف توانائی کے انتہائی ’’مہنگے‘‘ ذرائع ہوتے ہیں بلکہ کئی قسم کی مہلک بیماریوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔ مثلاً بلند فشار خون دل کے امراض‘ موٹاپا اور وزن میں زیادتی‘ فالج‘کئی قسم کے کینسر یا سرطان‘ گنٹھیا اور کیٹون نامی چربیلے ترشوں کے اجتماع سے ’’کیٹوسز‘‘کی بیماری وغیرہ۔

3-جسم میں گلوکوز کی کمی یا اس کی نامکمل تکسید سے دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور عصبی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
4- جگر میں ان زہریلے مادوں کو خارج کرنے کی اہلیت نہیں رہتی جو انسان کیلئے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
5- روغنی غذائوں کے عمل تحول میں بے قاعدگی اور گڑبڑ سے جسم میں سوڈیم کی شدید کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔
6- متعدد حیاتین اور نمکیات جو کاربوہائیڈریٹ میں موجود ہونے کے باعث مفت میں یا کم داموں پر حاصل ہو جاتے ہیں ان کے لئے دوسری مہنگی اور الگ غذائوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.