بلند بلڈ پریشر کے خطرے کو ٹالنے والی اہم عادات

38

 لندن: ہائپر ٹینشن یا بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لوگ تیزی سے بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا ہورہے ہیں تاہم درج ذیل اچھی عادات سے بلڈ پریشر بڑھنے کے خطرات کم کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریئے

ماہرین کہہ چکے ہیں کہ گھروالوں سے بات چیت اور دوستوں کی بے تکلف گفتگو سے عین وہی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو کسی درد کش دوا کے ہوسکتے ہیں۔

اسی بنا پر دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا کوئی لمحہ ضائع نہ کیجیے۔ اسی طرح بات چیت کرنے سے دماغی سکون ملتا ہے اور دل کے امراض کے خطرات بھی چھٹ جاتے ہیں۔

مشہور مایو کلینک کا مشورہ ہے کہ روزانہ 15 سے 20 منٹ پرسکون انداز میں بیٹھ کر لمبی گہری سانسیں لیجیے کیونکہ اس سے بھی بلڈ پریشر معمول پر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ زندگی کی نعمتوں کا شکر ادا کیجیے اور لوگوں کی مدد کرکے سکون حاصل کیجیے۔ قلبی اطمینان دل و خون کے نظام کےلیے بہت ضروری ہے۔

ورزش اور چہل قدمی

جسمانی طور پر آپ جتنے زیادہ متحرک اور سرگرم ہوں گے، دل کو خون پمپ کرنے کےلیے اتنی ہی کم مشقت کرنا ہوگی۔ اس لیے چہل قدمی اور ورزش کو نظر انداز نہ کیجیے۔

دل ایک پمپ ہے اور اس کی صحت کےلیے ورزش اور تیز قدموں کی دوڑ بہت ضروری ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق ہوئی ہے کہ اگر درمیانی عمر کی خواتین و حضرات ایئروبکس ورزشوں کی عادت ڈال لیں تو زندگی میں مسلسل بیٹھے رہنے اور بے عملی سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ہفتے میں تین سے چار دن تیز قدموں سے نصف گھنٹے کی واک بھی دل اور بلڈ پریشر کےلیے بہت مناسب اور مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر آپ نے کئی برسوں سے ورزش نہیں کی تو آج سے شروع کرکے ماضی کے تمام نقصانات کا ازالہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

پیٹ کم کیجیے

پیٹ کی موٹائی میں اضافہ بننے والا ہر انچ کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ اگر آپ درمیانی عمر میں ہیں تو وزن گھٹانے کی کوشش ضرور کیجیے۔ اس سے دماغ تک خون کی فراہمی بڑھے گی اور خون کی نالیوں پر تناؤ میں کمی واقع ہوگی۔

غذا میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار بڑھائیے، چینی کو خدا حافظ کہہ دیجیے، مکمل گندم اور خشک میوہ جات کی مقدار بڑھادیجیے اور ورزش کو سب سے زیادہ اہمیت دیجیے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کھانے میں نمک کا استعمال کم سے کم کردیجیے۔

ذہنی تناؤ کو خداحافظ

یہ بات اچھی طرح ثابت ہوچکی ہے کہ ذہنی و اعصابی تناؤ اور ڈپریشن بلڈ پریشر پر انتہائی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ مثبت اور پرسکون رہتے ہوئے ذہنی تناؤ کو خود سے دور رکھیے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ کئی عادات مثلاً ورزش، سانس کی مشقوں، عزیزوں کے ساتھ وقت گزارنے اور درست غذا کھانے سے ڈپریشن اور تناؤ دور کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

اور سگریٹ نوشی سے توبہ

تمباکو نوشی صحت کےلیے کس قدر نقصان دہ ہے؟ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں، لیکن سگریٹ نوشی فوری طور پر بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ خون اور خصوصاً دل کی رگوں کو تنگ کرنے میں بھی تمباکو نوشی کا اہم کردار ہوتا ہے۔

اس لیے سگریٹ نوشی کو فوری طور پر ترک کردیجیے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.