افطار کے فوری بعد سگریٹ نوشی سے دل کے دورے کا خطرہ

44

 کراچی: رمضان المبارک میں افطار کے فوری بعد سگریٹ نوشی دل کی بیماریوں کے علاوہ جسمانی جھٹکوں اور ہاتھ پاؤں میں رعشے کا باعث بھی بن سکتی ہے اور اس سے فوری موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں رمضان کے حوالے سے ہونے والے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر انعام دانش نے ترکی میں ہونے والی تحقیق کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ افطار کے فوری بعد سگریٹ نوشی کے مضر اثرات نہایت خطرناک ہوتے ہیں، بلڈ پریشر کے اچانک بڑھنے کی وجہ سے دل کے دورے کا بھی احتمال رہتا ہے جو فوری موت کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈاؤ اسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہر غذائیت کا کہنا تھا کہ افطاری کے وقت جسم کو پانی، گلوکوز اور آکسیجن کی سخت ضرورت ہوتی ہے جو یقیناً سگریٹ سے پوری نہیں ہوسکتی بلکہ سگریٹ نوشی نقصان دہ ضرور ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ تمباکو نوشی سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور خون میں آکسیجن بھی مناسب مقدار میں جذب نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور اس میں ’’کلوٹنگ‘‘ (تھکے بننے کا عمل) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

اسی طرح رمضان میں تلی ہوئی اشیاء کے استعمال کے باعث شریانوں میں چکنائی کے جمع ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے اور پکوڑوں، سموسوں کے فوری بعد سگریٹ نوشی سے خون میں کلوٹنگ کا عمل تیز ہوجاتا ہے جس سے خون کی شریانوں کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور رگ پھٹ سکتی ہے اور یہ عمل فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ایسے موذی اثرات سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی کو ترک کر دینا چاہیے اور رمضان ترک سگریٹ نوشی کا شان دار موقع فراہم کرتا ہے۔

رمضان کے مہینے میں روزہ دار 12 سے 15 گھنٹے تک کا روزہ رکھتے ہیں اور اس دوران سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرتے ہیں اس لیے اگر چاہیئں تو سگریٹ نوشی کے شوقین افراد تھوڑی محنت کر کے اس عادت سے کلی طور پر جان بھی چھڑا سکتے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.