نمک کے زیادہ استعمال سے یہ مسئلے لاحق ہوسکتے ہیں

57

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔

تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک جزو بدن بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔

غذا میں زیادہ نمک کے استعمال کی چند عام علامات درج ذیل ہیں۔

سوجن

اگر ہاتھ میں انگوٹھیاں تنگ ہوجائیں، آپ پیروں میں سوجن محسوس کریں یا صبح آنکھیں پھولی ہوئی ہو، تو اس کی ممکنہ وجہ زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے زیادہ پانی اکھٹا کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے غذا میں تبدیلیوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ پیاس لگنا

نمک میں موجود سوڈیم جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جب زیادہ نمک کھایا جائے تو جسم کو سیال کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز اور دیگر اعضاءاپنا کام معمول کے مطابق کرسکیں اور پانی پینا ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ڈی ہائیڈریشن کا شکار بناسکتا ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلیاں

جب جسم میں سوڈیم کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے تو جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا اظہار پیشاب کے ذریعے 2 وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں گردوں کو اس کے اخراج کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا عندیہ اکثر پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے جس کی رنگت بالکل شفاف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ سوڈیم کی جسم میں موجودگی سے جسم سیال کی سطح سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جسم جسم میں پانی کی کمی ہو تو پیشاب کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور گہرے زرد رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں میں درد

جب بہت زیادہ نمک کھایا جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کرپاتے، جس سے کیلشیئم کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کے مسائل اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مسلز اکڑنا

سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ عناصر مسلز کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ توازن نمک کے زیادہ استعمال سے بگڑ جائے تو پٹھے اکڑنے یا کھچنے کا تجربہ زیادہ ہونے لگتا ہے جبکہ مسلز میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مسلسل سردرد رہنا

زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال سے خون کا والیوم بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں شریانوں میں خلاءبڑھتا ہے، ایسا ہونے پر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ ہر وقت شدید سردرد کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل

فشار خون کے نتیجے میں دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ہائیڈریشن ناقص یاداشت، تھکاوٹ اور ردعمل کو سست کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.