بچوں کے دودھ کے دانت سنبھالنا کیوں ضروری؟

46

دنیا میں ہر جگہ جب کوئی بچہ پہلے دانت سے محروم ہوتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہورہا ہے، جبکہ مغرب میں اس موقع پر والدین بچوں کے تکیوں کے نیچے کچھ رقم بھی رکھتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ آپ اس دودھ کے دانت کا کیا کرتے ہیں ؟ کچھ تو اسے جذباتی نشانی کے طور پر سنبھال لیتے ہیں مگر متعدد بس پھینک دیتے ہیں کیونکہ آخر وہ کس کام کا ہوسکتا ہے؟

اگر آپ بھی ایسا سوچتے ہیں تو یہ جان کر حیران ہوں گے کہ وہ دانت مستقبل میں آپ کے بچے کے کام آسکتا ہے۔

 

یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

امریکا کی پینسلوانیا یونیورسٹی اور چین کی فورتھ ملٹری میڈیسین یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دودھ کے دانتوں سے اسٹیم سیلز ایکسٹریکٹ کو استعمال کرکے دانتوں کے ٹشوز کو دوبارہ اگانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ ایسے بچوں کا علاج کیسے کیا جائے جنھیں بچپن میں کسی انجری کا سامنا ہوا ہو، جس کے نتیجے میں ان کے دانتوں کو نقصان پہنچا ہو اور ٹشوز ختم ہوگئے ہوں۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ دودھ کے دانتوں میں موجود اسٹیم سیلز کو استعمال کرکے بچوں کی ایسی انجریز کو آسانی سے کور کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 40 ایسے بچوں کو لیا گیا جن مستقل دانت نکل آئے ہوں مگر ایک یا دو دودھ کے دانت موجود ہوں، جنھیں نکال کر اس تجرباتی علاج کے لیے استعمال کیا گیا۔

جن بچوں کا اس نئے طریقہ کار سے علاج کیا گیا، اس سے دانتوں کی جڑوں کی نشوونما میں بہتری نظر آئی اور ایک سال بعد ٹشوز دوبارہ اگ گئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے مریض کے دانتوں میں محسوس کرنے کی حس واپس آگئی، یعنی انہیں گرم یا ٹھنڈا محسوس ہونے لگا، اگر ٹشوز مردہ ہوجائیں تو پھر ایسا نہیں ہوتا۔

 

ٹیم کا کہنا تھا کہ انجری کے 3 سال بعد بھی یہ طریقہ کار محفوظ اور موثر ثابت ہوا ہے اور ایک کیس میں جب بچے نے اپنے دانت کو دوبارہ نقصان پہنچالیا، اسٹیم سیلز سے ٹشوز کا علاج دوبارہ کامیاب ثابت ہوا۔

ابھی اس کے تجربات بالغ افراد پر نہیں کیے گئے بلکہ اس کے لیے تحقیقی ٹیم امریکا میں اجازت کی منتظر ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.