کیڑے مار دواؤں کے انسانی صحت پر سنگین اثرات، ماہرین پریشان

5

کیلیفورنیا: دنیا بھر کے کھیتوں میں فصلوں کو متاثر کرنے والے کیڑے مکوڑوں کو تلف کرنے میں عام استعمال ہونے والی حشرات کش دوا کو ماہرین نے انسانوں کے لیے انتہائی مضر قرار دے کر اس پر پابندی کی درخواست کردی۔

بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے آرگینو فاسفیٹس کے ماحول میں کام کرنے والی  حاملہ خواتین کے بچوں میں دماغی رکاوٹ اور دیگر امراض کا انکشاف کیا ہے۔ اس کی تفصیلات پبلک لائبریری آف سائنس (پی ایل او ایس) میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اب انہیں درجہ بہ درجہ ختم کرنا ہوگا۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ماہر ماحولیات ڈاکٹر اِروا ہرٹز پیچیاٹو نے بتایا ’اس بات کے ثبوت بڑھتے جارہے ہیں کہ کھیتوں میں کام کرتی ہوئی حاملہ خواتین کو آرگینو فاسفیٹس پر مشتمل کیڑے مار دواؤں کی معمولی مقدار کا سامنا بھی ہوجائے تب بھی ان کے بچوں میں آئی کیو کی کمی، سیکھنے، یاد کرنے، توجہ اور ارتکاز کی مشکلات و مسائل بڑھ سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں صرف ایک قسم کے آرگینو فاسفیٹ پر بحث جاری ہے لیکن ہماری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس نسل کے سارے مرکبات یکساں طور پر مضر ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کیمیکل جنگی ہتھیار کے طور پر بطور اعصابی گیس بنایا گیا تھا۔ آج آرگینو فاسفیٹس کھیتوں، گالف کے میدانوں ، اسکولوں اور شاپنگ مراکز میں کیڑے مار دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے چھڑکتے ہی کیڑوں کے اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور وہ مرجاتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ نہ صرف اپنے ماحول بلکہ تمام غذائی اجناس میں بھی یہ کیمیکلز جذب ہوکر خود غذا کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے اس پر پابندی، پانی کے ذخائر میں اس کی موجودگی کی شناخت، اس سے بیماریوں کا ایک باقاعدہ سسٹم اور کسانوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کرنے پر زور دیا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.