سعودی حکومت کا کرپشن اورمنی لانڈرنگ کے خلاف بڑا ایکشن، 11 شہزادے گرفتار

29

سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار شہزادوں میں دنیا کے کھرب پتی الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق نو تشکیل شدہ اینٹی کرپشن کمیٹی کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، کمیٹی نے کرپشن کےالزام میں 38 موجودہ اور سابق وزرا کو گرفتار کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار سعودی شہزادوں میں الولیدبن طلال بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

شہزادہ الولید بن طلال شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔

ولید بن طلال سفر کے لیے 50 ارب روپے کا ذاتی طیارہ استعمال کرتے ہیں اور ان کے تین ذاتی محل ہیں جن میں سے ایک محل میں 317 کمرے اور اعلی معیار کا 15 ہزار ٹن اٹالین سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے۔

شہزادہ ولید کو 2013 میں امریکی جریدے فوربز نے 26 ویں نمبر پر رکھا تو ان کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی کہ انہیں ان کا صحیح مقام نہیں دیا گیا۔

شہزادہ ولید کی میڈیا کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری موجود ہے اور ایک مشہور عالمی بینک میں بھی ان کے شیئرز ہیں۔

شہزادہ ولید بن طلال دنیا کے سو بااثر افراد میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔

ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر شہزادہ ولید بن طلال نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر ہوں گے کیونکہ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ٹرمپ کو قریب سے جانتے ہیں اور  ان کی بیٹی ایوانکا انکی بہترین دوست ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کروانے میں بھی ان کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کرنا نہ صرف ملکی معیشت بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی ضروری ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.