’کرپشن میں گرفتار شہزادوں، وزراء اور دیگر کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا‘

45

سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار شہزادوں، وزراء اور دیگر کاروباری شخصیات کے خلاف عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی اٹارنی جنرل نے خبردار کیا کہ کرپشن، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ہونے والی گرفتاریاں، بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کا محض آغاز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے الزام میں جن شخصیات کو گرفتار کیا گیا انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ ان کے خلاف کارروائی شفاف اور کھلی عدالت میں سب کے سامنے ہوگی۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی بینکوں میں ملزمان کے سیکڑوں کھاتے منجمند کر دیے گئے ہیں۔

سعودی اخبارات میں بھی مبینہ کرپشن کے خلاف مہم کو خاص جگہ دی جارہی ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کے حامی اور مخالفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی شاہ سلمان کے حکم پر کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزراء سمیت کئی شہزادوں کو اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتار کیا جس کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔

گرفتار کئے جانے والے بااثر شخصیات کے نام بھی سامنے آچکے ہیں جن میں کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال، بن لادن گروپ کے چیرمین بکر بن لادن، سرمایہ کار محمد العمودی اور این بی سی گروپ کے مالک الولید البراہیم شامل ہیں۔

گرفتار افراد میں ریاض سے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ، سابق نائب وزیر دفاع شہزادہ فہد بن عبداللہ، سابق سربراہ محکمہ موسمیات شہزادہ ترکی بن ناصر اور شہزادہ متعب بن عبداللہ  بھی شامل ہیں۔

سابق گورنر ساجیا عمرو الدباغ، سابق وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی عادل فقیہ، سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، سابق سربراہ ایوان شاہی، خالد التویجری اور محمد الطبیشی اور بحریہ کے سابق ڈائریکٹر خالد الملحم بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.