دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر پاکستان کا رویہ تبدیل نہیں ہوا، نیٹو کمانڈر

35

نیٹو اتحاد کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے پاکستان کا رویہ بالکل بھی تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی وہ تعاون کر رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بیلجئم کے شہر برسلز میں نیٹو کے دفاعی وزیروں سے ملاقات کے بعد نیٹو کمانڈر جنرل جان نکلسن نے میڈیا سے بات کی۔

جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک پاکستان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی تاہم خطے کے استحکام اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لئے اعلیٰ سطح پر بات کر رہے ہیں۔

جنرل نکلسن نے کہا کہ پاکستان ایسے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہا ہے جو اس کی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جس میں انہیں کافی نقصان کا بھی سامنا ہے۔

نیٹو کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے ایسے دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو افغانستان میں اور اتحادیوں پر حملے کر رہے ہیں۔

نیٹو کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکا اپنی سمت کے حوالے سے واضح ہے اور ہم آئندہ چند ہفتوں یا ماہ میں بہت سی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات کی سختی سے تردید سامنے آتی رہی ہے اور وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی دورہ امریکا کے دوران اس کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی کہ چکی ہیں کہ شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان سے باہر نہیں اندر موجود ہیں، پاکستان نے اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

حال ہی میں اسلام آباد میں پاک امریکا ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے اجلاس سے خطاب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.