سعودی عرب میں 1 کھرب ڈالر کی کرپشن ہوئی، 201 افراد کو گرفتار کیا: اٹارنی جنرل

43

ریاض (آن لائن)سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا ہے کہ مملکت میں حالیہ کچھ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے جس کی بنا پر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، انہوں نے زیر حراست افراد کے نام بتانے سے گریز کیا ۔
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ انسدادِ بد عنوانی مہم کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں کے باعث سعودی عرب میں عام کاروباری سرگرمیاں اثرانداز نہیں ہوئیں ، مہم کے تحت صرف گرفتار افراد کے ذاتی اکاؤنٹس ہی منجمد کیے گئے ہیں۔

شیخ سعود المجیب نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کمیٹی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں بہت متحرک ہے۔ کمیٹی کے پاس اگلی تحقیقات کے لیے واضح مینڈیٹ موجود ہے اور اس نے منگل کے روز بعض بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے ہیں۔اس کمیٹی میں اب تک 208 افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیاجن میں سے 7 کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ 201 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بدعنوان سرگرمیوں کا ممکنہ درجہ بہت بلند ہے ، پچھلے تین سال میں ہونے والی تحقیقات سے اندازہ لگایا ہے کہ کئی عشروں کے دوران وسیع بدعنوانی اورخوردبرد سے قومی خزانے سے ایک کھرب ڈالر مالیت کی رقم کا غلط استعمال ہوا ہے۔
شیخ مجیب نے کہا کہ گرفتار افراد کی شناخت اور ان کے خلاف الزامات کے بارے میں دنیا بھر میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن سعودی قانون کے تحت ان افراد کو مکمل قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ 4 نومبر کو سعودی عرب میں نئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا، ابتدائی طور پر انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11 شہزادوں سمیت4 موجودہ اور درجنوں سابق وزرا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار افراد میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل تھے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے افراد کو دارالحکومت ریاض کے فائیو سٹار ہوٹل رٹز کارلٹن میں رکھا گیا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.