2040 ءمیں اسلام امریکہ کادوسرا بڑا مذہب ہوگا،پیو ریسرچ کا دعویٰ

22

نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تمام مسلمان مخالف قوتوں کی ساری کوششیں ایک ایک کرکے ناکام ہوتی جارہی ہیں اور اب امریکی چینل سی این این کی جانب سے جاری کی گئی پیو ریسرچ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ دو عشروں یعنی 2040 ءمیں اسلام امریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا جبکہ مسلمان دوسرے بڑے مذہبی گروپ کی حیثیت میں سامنے آئیں گے۔

پیوریسرچ کے ایک مطالعے پر مبنی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیاہے کہ مسلمانوں کی آبادی امریکہ میں دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق آئندہ تین عشروں میں ان کی آباد بڑھ کر دوگنا ہوجائے گی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2017 ءمیں امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد ساڑھے 34 لاکھ تھی جو کہ بڑھ کر 2050 ءمیں 81 لاکھ ہوجائے گی اور اسی عرصہ کے دوران مسلمانوں کی تعداد یہود یوں سے بڑھ جائے گی اور وہ عیسائیوں کے بعد دوسرا بڑامذہبی گروپ بن جائے گا۔

ریسرچ ادارے پیو نے 2007، 2011ءاور 2017ءمیں مذہب کی بنیاد پر امریکہ میں مقیم لوگوں کی تعداد سے متعلق اپنے مطالعات کو یک جا کیا ہے اور ان مطالعات کی ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔اس ضمن میں اس نے امریکہ کی مردم شماری کی سالانہ رپورٹس سے اعداد وشمار لیے ہیں اور ان کی بنیاد پر مستقبل میں امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد کاتخمینہ لگایا ہے۔

اس ریسرچ کے مطابق سال 2016 ءمیں امریکہ میں مسلمان تارکین وطن کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ اس وقتامریکہ میں مقیم مسلمانوں میں تارکین وطن اور ان کی اولاد کی تعداد تین چوتھائی ہے۔
تحقیق میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ مسلمانوں کی اوسط آبادی دوسرے مذہبی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہے کہ بچوں کی شرح پیدائش بھی زیادہ رہے گی۔

خیال رہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد میں تو اضافہ ضرور ہوگا مگر ملک کی کل آبادی میں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہی ہوگی۔یاد رہے کہ امریکہ میں عیسائیوں کی تعداد پہلے نمبر پر ہے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کی آباد ی ہے جو کہ لادین ہیں اور کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.