مالدیپ کے سیاسی بحران میں نیا موڑ، سابق صدر نے بھارت سے مدد مانگ لی

8

مالے: مالدیپ کے سیاسی بحران میں نیا موڑ آگیا، سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سمیت دوججز کی گرفتاری کے بعد حکومت کے خلاف اپنا پرانا فیصلہ منسوخ کردیا۔

تین ججز نے فیصلے میں لکھا کہ حکم نامے کی منسوخی صدر کے تحفظات کے پیش نظر کی گئی جبکہ مالدیپ کے اپوزیشن رہنما اور سابق صدر محمد نشید نے بحران کے حل کے لیے بھارت سے مدد مانگ لی جس کے بعد بھارتی فوج الرٹ ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو ججوں کی گرفتاری کے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے باقی 3 ججوں نے اپنے فیصلے میں سابق حکم نامہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ نے 2 فروری کو اپنے ایک فیصلے میں جلاوطن سابق صدر محمد نشید کا ٹرائل غیر آئینی قرار دے کر گرفتار 9 ارکان پارلیمنٹ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

حکومت نے عدالتی حکم پر عمل درآمد سے انکار کرتے ہوئے پارلیمان کو ہی معطل کر دیا تھا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے چیف جسسٹس اور سابق صدر مامون عبدالقیوم کو بھی گرفتار کرلیا تھا جن پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کی حمایت میں سرگرم تھے۔

اب سپریم کورٹ نے اپنا سابق حکم منسوخ کر دیا ہے اور فیصلے میں کہا کہ حکم نامے کی منسوخی صدر کے تحفظات کے پیش نظر کی گئی ہے۔

بھارت اپنا مندوب بھیجے، سابق صدر کی اپیل

مالدیپ بحران حل کے لئے سابق صدر محمد نشید نے بھارت سے مدد مانگ لی اور کہا کہ بھارت ایک مندوب بھیجے جسے فوج کی حمایت حاصل ہو۔

محمد نشید نے امریکا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مالدیپ کی موجودہ حکومت سے قطع تعلق کرے۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں سابق صدر محمد نشید نے امریکا سے استدعا کی کہ وہ مالدیپ کی حکومت کے ساتھ کوئی مالیاتی لین دین نہ کرے۔

سابق صدر محمد نشید اس وقت سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔

انھوں نے صدرعبداللہ یامین اور حکومت سے فوری مستفعی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.