پاکستان پر دباؤ سے کچھ حاصل نہیں ہوا، امریکی محکمہ خارجہ نے ناکامی کا اعتراف کر لیا

23

 واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روک کر دباؤ ڈالنے کا حربہ بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور اسلام آباد تاحال اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔

امریکا کی نئی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی میں امریکی حکام اور پارلیمانی وفد نے اعتراف کیا کہ اسلام اباد کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔

کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین سینیٹر رابرٹ کروکر نے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے فیصلے کی بھرپور تائید کی۔ سینیٹر نے کہا کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور دیگردہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتارہے گا۔ اس وقت تک پاکستان کے لیے اربوں ڈالرکی عسکری امدادپرپابندی ہوگی۔ دہشت گرد عام شہریوں سمیت امریکی اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

دوسری جانب کمیٹی میں موجود سینیٹربین کارڈن نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کی عسکری امداد روکنے سے کوئی تبدیلی آئی جس پر ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ جان سلیوان نے جواب دیا کہ یقینا پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس لیے ہم اسے حتمی اور ناقابل تنسیخ سمجھیں گے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.