برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

9

 

 لندن: برطانیہ کے حزبِ اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن نے شام پر میزائل حملے کے لیے امریکا کا اتحادی بننے کے وزیراعظم تھریسامے کے فیصلے پر آئینی اعتراض اُٹھا دیا۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ کے اپوزیشن رہنما جیرمی کورین نے شام پر میزائل حملے میں برطانیہ کے امریکا کا اتحادی بننے پر وزیراعظم تھریسامے کو کھلا خط لکھ دیا جس میں انہوں نے برطانوی وزیراعظم کے اس اقدام پر شدید تنقید کی اور اتحادی بننے سے قبل پارلیمنٹ سے مشورہ نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے سوال کیا کہ برطانوی وزیراعظم نے کس قانون کے تحت شام پر حملے کے لیے امریکا کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا؟ تھریسامے کو اس معاملے پر سب سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا اور  ووٹنگ کرانی چاہیے تھی جس کے بعد پارلیمنٹ کی رضامندی کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔

برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن نے مزید لکھا کہ برطانوی وزیرِ اعظم کو امریکا کے صدر کے نہیں بلکہ پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہونا ہوتا ہے چناچہ پارلیمان سے مشاورت کے بغیر امریکا کا اتحادی بننے کا فیصلہ مشتبہ ہو گیا ہے۔ یہ جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ ہے کیوں کہ اقوامِ متحدہ یا کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے او پی سی ڈبلیو نے ابھی تک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں کی، بہتر ہوتا او پی سی ڈبلیو کو اپنا کام کرنے دیا ہوتا۔

قبل ازیں برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے گزشتہ روز جیرمی کوربن کو خصوصی طور پر مدعو کر کے شام پر ہونے والے حملے پر بریفنگ بھی دی تھی تاہم اپوزیشن رہنما کے اس خط سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وزیراعظم کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔

واضح رہے گزشتہ روز برطانیہ نے شام پر میزائل حملے میں امریکا اور فرانس کے حلیف کے طور پر حصہ لیا تھا جس میں برطانیہ نے آٹھ اسٹارم شوٹر، فرانس نے اسکیلپ میزائل اور امریکا نے ٹوم ہاک میزائل داغے تھے تاہم میزائل کی تعداد کے حوالے سے دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں اسی طرح میزائل حملے کے نتیجے میں ہونے والی نقصان کا بھی اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.