کشمیری بچی کا ریپ اور قتل: والد کی سپریم کورٹ سے کیس منتقل کرنے کی اپیل

9

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی 8 سالہ بچی کے والد نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کیس کا ٹرائل کسی اور ریاست کی عدالت میں منتقل کیا جائے۔

بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی عدالتِ عظمیٰ مقتول بچی کے والد کی اپیل پر آج سنوائی کرے گی۔

مقتولہ کے والد کے وکیل کا کہنا تھا کہ جموں کی صورتحال دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ٹرائل پُر امن طریقے سے ممکن نہیں۔

وکیل نے بتایا کہ بچی کے والد نے سپریم کورٹ سے اس کیس کو کسی دوسری ریاست کی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

ٹائمز آف اںڈیا کی رپورٹ کے مطابق جموں کی مقامی عدالت نے اس کیس کی چارج شیٹ کی نقول ملزمان کے حوالے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی۔

ادھر بھارتی میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کی وکیل نے خدشات کا اظہار کیا کہ انہیں ریپ کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔

متاثرہ خاندان کی وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، اور اب وہ سپریم کورٹ میں کہیں گی کہ ’میں خطرے میں ہوں، میری جان بچایے‘۔

8 سالہ بچی کا ریپ اور قتل

خیال رہے کہ مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ آصفہ کو رواں برس 8 جنوری کو گھر کے قریبی جنگل جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا، جس کی لاش 11 دن بعد 17 جنوری کو ایک مقامی مندر کے باہر سے ملی تھی۔

بچی کے والدین کی جانب سے رپورٹ درج کروائے جانے کے بعد ماہ فروری میں اس کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جموں و کشمیر کے ضلع کھٹوعہ میں اجتماعی ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد 8 سالہ بچی کے قتل کے واقعے نے نہ صرف کشمیر اور ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔

دو پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد پر آصفہ کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد ہے جن میں سے ایک مبینہ طور پر آصفہ کی لاش کی تلاش میں بھی ملوث تھا جبکہ دیگر 2 کو شواہد مٹاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی کے مطابق اس جرم کا منصوبہ سابق ریوینیو حکام نے بنایا جو کشمیر میں کاٹھوا کے علاقے رسانہ میں مسلمان برادری کو لڑکی کے واقعے کے ذریعے بھگانا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 جنوری کو جامنی رنگ کا لباس پہنی بچی اپنے ایک کمرے کے گھر کے پاس گھوڑوں کو چراہ رہی تھی کہ 19 سالہ ملزم نے اسے گمشدہ گھوڑے کی تلاش کا جھانسہ دے کے جنگل کی جانب بلایا بعد ازاں جنگل سے گھوڑا تو واپس آگیا لیکن بچی واپس نہ آسکی۔

یہ واقعہ قوم کے لیے شرم ناک ہے، نریندر مودی

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہمدردوں اور وزیروں کی جانب سے ملزمان کی پشت پناہی بھی سامنے آئی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کشمیر میں ریپ کے بعد قتل کے اس واقعے کو اپنی قوم و معاشرے کے لیے شرم ناک قرار دیا تھا۔

واقعہ مذہبی رنگ اختیار کرگیا

بعدِ ازاں یہ معاملہ مذہبی رنگ اختیار کر گیا جہاں مسلمان اور انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو گروہوں کے ہزاروں ارکان نے 8 سالہ آصفہ کے ریپ اور قتل کے الزام میں گرفتار 6 ملزمان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کئی ہندو وکلاء کی جانب سے احتجاج کیا گیا کہ ملزمان، جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، بے گناہ ہیں۔

بولی وڈ اسٹارز کی مذمت

بولی وڈ اسٹار نے بھی آصفہ کا ساتھ دیتے ہوئے ملزمان کو سخت سے سخت اور جلد سے جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

ہندوستانی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی بھارتی اہلیہ ثانیہ مرزا کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کی گئی 8 سالہ مسلمان بچی کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔

8 سالہ آصفہ بانو کے ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کرنے کی امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر ٹوئٹ کرنے پر بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے خلاف خود اپنے ہی ملک کے شہری ناراض ہوگئے اور انہیں پاکستانی ہونے کا طعنہ دے دیا۔

حال ہی میں کرینہ کپور کی ایک تصویر سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ اٹھا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی 8 سالہ بچی سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

اس تصویر کے بعد ٹوئٹر پر کچھ افراد نے کرینہ کپور خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان سے شادی کی ہے جبکہ اپنے بیٹے کا نام بھی ایک بادشاہ تیمور کے نام پر رکھا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.