بھارت: صنفی امتیاز کے باعث سالانہ ڈھائی لاکھ لڑکیوں کی اموات

62

بھارت میں پانچ سال سے کم عمر کی 2 لاکھ 39 ہزار لڑکیاں محض صنفی امتیاز کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ’دی لینسنٹ میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں محقق کریسٹفی گلیموٹو نے انکشاف کیا کہ اس رپورٹ میں پیدائش سے قبل ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں تاہم صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاطِ حمل بھی شامل ہے اور اگر لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو ان کے لیے وسائل اور توجہ دونوں انتہائی محدود ہوتی ہے’۔

محقق کا کہنا ہے کہ ‘صنفی امتیاز کا دائرہ کار صرف تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت توجہ، بیماری سے بچاؤ کی ویکسین اور لڑکیوں کی خوارک بھی شامل ہے’۔

مذکورہ رپورٹ کے لیے بھارت کے 640 اضلاع میں ایسے عناصر کا جائزہ لیا گیا جہاں 5 سال سے کم عمر لڑکیوں کو موت سے بچایا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بھارت کی 35 میں سے 29 ریاستوں میں 5 سال سے کم عمر کی لڑکیوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

بھارت میں 05-2000 کے درمیانی عرصے میں 4 سال سے کم عمر بچیوں کی موت کی شرح فی ہزار پیدائش میں 18.5 فیصد تھی تاہم موجودہ اعداد و شمار کے مطابق محض صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

محققین کے مطابق بھارت کے تمام اضلاع میں لڑکیوں کی شرح اموات کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے لیکن 4 ریاستوں اتر پردیش، بیہار، راجستھان اور مدھیہ پردیشن میں 2 تھائی شرح اموات ریکارڈ کی گئیں۔

تحقیق کے مطابق ہلاک ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد دیہی علاقوں سے ہے جہاں تعلیم انتہائی کم اور شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں بیٹی کے مقابلے بیٹے کی پیدائش کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسی سبب لڑکیوں کو بنیادی سہولیات زندگی سے محروم رکھا جاتا ہے اور یوں ان کی شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے معاون محقق نندیتا سیکھیا نے بتایا کہ حاصل شدہ نتائج کے بنیاد پر ضروری ہے کہ صنفی امتیاز کے معاملے پر براہ راست توجہ دی جائے تاکہ بھارت میں خواتین سماجی اور اقتصادی معاملات میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.