چین کا بھارتی وزیراعظم کے متنازع سرحدی علاقے کے دورے پر احتجاج

11

چین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سرحدی علاقے ارونچل پردیش کا دورہ کرنے پر احتجاج کیا ہے، یہ علاوہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع تصور کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چوئینگ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ‘چینی حکومت نے کبھی بھی نام نہاد ارونچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا اور متعدد مرتبہ مذکورہ علاقے میں بھارتی رہنماؤں کے دوروں کی مخالفت کی ہے’۔

انہوں نے نریندر مودی کے متنازع دورے کے کچھ گھنٹے بعد جاری بیان میں کہا کہ ‘چین، بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی قسم کی جارحیت سے باز رہے جو کسی تنازع کا باعث ہوسکتی یا سرحدی معاملات پر اثر انداز ہوسکتی’۔

 

نریندر مودی نے مذکورہ دورے کے دوران متنازع علاقے میں 2 ایئرپورٹس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 1962 میں ہونے والی کشیدگی کے بعد سے خراب ہیں، اس کشدگی کے دوران دونوں ممالک نے ارونچل پردیش کے مقام پر جنگ بھی کی تھی جبکہ اس علاقے پر مختصر وقت کے لیے چینی افواج نے قبضہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ تنازع تا حال برقرار ہے، بھارت ارونچل پردیش کو اپنی شمالی ریاست تصور کرتا ہے جبکہ چین اس 90 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو اپنی حدود تصور کرتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘انڈیا کی قیادت مختلف موقع پر ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ارونچل پردیش کا دورہ بھی کرتی ہے جبکہ متعدد موقع پر اس علاقے پر اپنی پوزیشن کے حوالے سے چین کو بتایا جاتا رہا ہے’۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.