جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے، ہمیں علم نہیں، سعودی عرب

19

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث سعودی ٹیم کو حراست میں لیے جانے کے باوجود ہمیں جمال خاشقجی کی لاش کا علم نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عدل الجبیر نے کہا کہ سعودی حکام نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے جمال خاشقجی کو قتل کیا اور ان 11 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’ فیس دی نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’ ہمیں علم نہیں‘۔

عادل الجیبر نے کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس کے پروسیکیوٹر نے ترکی سے شواہد ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سعودی عرب میں زیر حراست افراد کی جانب سے جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق نہ بتانے سے متعلق سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ نےکہا کہ ’ ہم تاحال تحقیقات کررہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے کئی امکانات ہیں اور ہم تحقیقات کررہے ہیں کہ انہوں نے لاش کے ساتھ کیا کیا‘

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم سچ جان کر رہیں گے‘۔

عادل الجبیر کا انٹرویو 8 فروری کو لیا گیا تھا جسے گزشتہ شب نشر کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی 8 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی ڈیڈلائن نظر انداز کردی تھی جس میں انہیں بتانا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد جمال خاشقجی کو کس نے قتل کیا تھا۔

خیال رہے کہ 8 فروری کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ استنبول میں قائم قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نامعلوم ذرائع پر مبنی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا،یہ سرکاری طور پر منظور شدہ آپریشن نہیں تھا‘۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد کی بات چیت کو حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد کی تلاش کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہسعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے ماتحت ترکی الدخیل کے درمیان بات چیت ستمبر 2017 میں جمال خاشقجی کے قتل سے 13 ماہ قبل ہوئی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر جمال خاشقجی سعودی عرب واپس نہیں آتے تو انہیں طاقت کے زور پر واپس لایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی طریقہ کام نہیں کرتا تو پھر ہم ان کے خلاف ہتھیار کا استعمال کریں گے۔

یہ بات چیت اس وقت کی گئی تھی جب سعودی حکام جمال خاشقجی کی جانب سے کی گئی تنقید پر کافی برہم تھے اور اسی ماہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نگاری کا آغاز کیا تھا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.