’امریکا کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کی صورت میں جواب دیا جائے گا‘

16

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ کارروائی کی صورت میں نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا بلکہ اس کا جواب دیا جائے گا۔

امریکی نیوز چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ کارروائی ریڈ لائن ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایک باوقار قوم ہیں اور ہم باہمی اعتماد پر دوستی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو دبانے یا دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان دہشتگردی سے براہ راست متاثر ہوا ہے اور ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ’ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے گزشتہ سالوں میں دہشتگردی کے خلاف اتنی قربانیاں اور اتنا تعاون کیا ہو جتنا پاکستان نے کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 60 ہزار لوگوں کی جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور اس کی معیشت کو 25 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی سے جنگ کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور امریکا یا یو ایس ایڈ کی جانب سے آنے والی امداد بہت معمولی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ جنگ امریکی امداد کے لیے نہیں لڑ رہا بلکہ ہم یہ جنگ اپنے لوگوں اور ان کے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بات کی جائے تو ہمارا موقف واضح ہے کہ ہمیں ’امداد کی نہیں تجارت‘ کی ضرورت ہے اور اسلام آباد امریکا کو ایک امداد دینے والے ملک کے بجائے اپنا ترقی کا ساتھی دیکھنا چاہتا ہے۔

پاک-افغان-امریکا تعلقات

پاک افغان تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دو ممالک جغرافیائی لحاظ سے بندھے ہوئے ہیں اور یہ امریکا اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہوگا کہ وہ ساتھ کام کریں کیونکہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جو افغانستان میں بد امنی کی قیمت چکا رہا ہے اور ہم ہی پہلے ملک ہیں جنہیں افغانستان میں امن سے فائدہ ہوگا۔

افغانستان میں جاری امریکی جنگ پر مزید بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکا میں بہت سے لوگ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں اپنے من پسند نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ایک جامع نقطہ نظر پیش کیا اور امریکا سے خطے میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حتمی نتائج اور امن اور استحکام کے لیے ہمیں جامع نقطہ نظر پر عمل کرنے کی ضرورت ، ہمیں فوجی اختیار کے ساتھ ساتھ سیاسی اختیار کی بھی ضرورت ہے اور خطے میں امن کے لیے افغانستان اور پاکستان دونوں کے مفادات اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا افغانستان ، امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے اہم ہے، افغانستان اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے ایک دوسرے کو باندھ رکھا ہے اور ہمیں شراکت داری کی حکمت عملی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

انٹرویو کےد وران جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سارے معاملے میں انڈیا کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا اور افغانستان کو بھارت کی آنکھ کے بجائے اپنے آزاد نظریے سے دیکھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات اور شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے جہاں ایک تیسرا ملک اس معاملے کو خراب کرسکتا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.