ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والے کے خلاف غداری کی باتیں ہورہی ہیں، وزیراعظم

30

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ جس نے ملک کو نا قابل تسخیر بنایا اس کے خلاف غداری کی باتیں کی جارہی ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک انٹرویو کیا گیا جس میں چند باتیں لکھیں گئیں تھیں، وہ معاملات ایسے نہیں تھے کہ جس پر صرف نواز شریف نے باتیں کی بلکہ جنرل پرویز مشرف، جنرل پاشا، عمران خان، فوجی آفیسر درانی اور سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بھی اس پر باتیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈان اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں نواز شریف نے جو باتیں کی اس کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جبکہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس انٹرویو میں غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں ان کی غلط تشریح کی گئی اور ممبئی حملوں میں پاکستان سے دہشتگردوں کو بھیجا گیا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک پر حملے کے لیے ہماری جماعت اپنی سرزمین کو استعمال نہیں کرنے دے گی۔

انہوں نے مخالف جماعتوں سے گزارش کی کہ ان معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کا آلہ کار نہ بنیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تقریر کرنے والے اگر اخباری خبر پڑھتے تو ایسے بیان نہ دیتے۔

انہوں نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے کہا کہ جس شخص نے دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اس پر الزام مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر حکومتی موقف کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا۔

انہوں نے متنازع بیان کے حوالے سے حقائق جاننے کے لیے کمیشن بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے بولنا شروع کر دیا جس پر شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پیٹ میں درد ہے ان کو بولنے دیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ’پیٹ درد والے جملے‘ پر شور شرابہ مچ گیا اور اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔

اپوزیشن نے وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں بیان بھی مسترد کر دیا۔

خیال رہے کہ پاک فوج کی ‘تجویز’ پر ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا میں ‘گمراہ کن’ بیانات پر مشاورت کے لیے 14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر میں جاری بیان میں کہا تھا کہ ‘میڈیا میں ممبئی حملوں کے حوالے سے چلنے والے گمراہ کن بیان پر مشاورت کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں پیر کی صبح قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی تھی’۔

14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو متفقہ طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق شرکا نے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِاعظم کے بیان سے جو رائے پیدا ہوئی ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

آج احتساب عدالت کے باہر سابق وزیراعظم نوازشریف نے ممبئی حملوں سے متعلق ان کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے جاری اعلامیے کو مسترد کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک، تکلیف دہ ہے جبکہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

نواز شریف کا متنازع تصور کیا جانے والا بیان

یاد رہے کہ 12 مئی 2018 کو ڈان اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔

نواز شریف سے جب پوچھا گیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.