پاکستان کا ایشیا پیسیفک گروپ کے بھارتی سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ

17

وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایشیا پیسفک مشترکہ گروپ میں بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپی جائے۔

اسد عمر نے ایشیا پیسفک گروپ میں بھارت کی شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے صدر مارشل بیلنگزیا کو خط میں واضح کیا کہ ’ایف اے ٹی ایف کا جائزہ صاف، غیر جانبدار اور معروضیت پر مبنی ہو‘۔

وزیر خزانہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ ’بھارت، پاکستان کے بارے میں جانبدرانہ رائے اور عزائم رکھتا ہے جبکہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور دراندازی کے واضح ثبوت ہیں‘۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ ’بھارتی وزیر خزانہ کی جانب سے 18 فروری 2019 کو بین الاقوامی تعاون کے جائزہ گروپ (آئی سی آر جی) کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کو عالمی سطح پر ’بلیک لسٹ‘ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس سے پاکستان کے معاشی مفاد کے خلاف نئی دہلی کے ارادوں کی نشاندہی ہوتی ہے‘۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مفاد کو نقصان پہنچانا بھارت کے ارادوں میں شامل ہے اور مشترکہ گروپ میں بھارت کی بطور نگراں موجودگی سے تمام مراحل غیر جانبدار ہوجائیں گے‘۔

x

انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ’ہمیں بھرپور یقین ہے کہ آئی سی آر جی کے عمل میں بھارت کا دخل، پاکستان کے حق میں مثبت نہیں ہوگا‘۔

وزیر خزانہ نے خط میں ایف اے ٹی ایف کے صدر کو یقین دلایا کہ ’پاکستان، ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف اس امر کو یقینی بنائے کہ آئی سی آر جی کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو‘۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’پاکستان نے گزشتہ برس جون میں ایشیا پیسفک گروپ سے مذکورہ خدشے کا اظہار کیا تھا مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا‘۔

خیال رہے کہ 9 مارچ کو حکومت نے کالعدم تنظیموں کی درجہ بندی میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں ’شدید خطرہ‘ قرار دینے اور فنانشنل ٹاسک فورس کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے سخت سیکیورٹی کے قانونی، انتظامی، مالی اور تفتیشی پہلوؤں کے تحت تمام افراد اور ان کی حرکات و سکنات کی از سرِ نو جانچ کا فیصلہ کرلیا تھا۔

 مالی جرائم کے خلاف کام کرنے والی پیرس میں موجود عالمی تنطیم نے کالعدم تنظیموں کو ’کم درجے کا خطرہ‘ قرار دینے پر اپنے ‘عدم اطمینان’ کا اظہار کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ’داعش، القاعدہ، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے منسلک افراد کے حوالے سے مالیاتی خطرات کا مناسب اظہار نہیں کیا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.