نئی حلقہ بندیاں؛ پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا

10

اسلام آباد: نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، صاحبزادہ طارق اللہ، شیخ صلاح الدین، ایس اقبال قادری، اعجازالحق، نعیمہ کشور، روبینہ خالد اور طارق بشیر چیمہ شریک ہوئے جب کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح بھی اجلاس میں موجود تھے۔

آج کے اجلاس میں بھی نئی حلقہ بندیوں کے آئینی ترمیم بل پر غور کیا گیا تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

دوران اجلاس ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہا کہ ووٹرز فہرستیں اپ ڈیٹ ہونا ووٹرزکا حق ہے جو ووٹر کو ضرور دیں گے، مردم شماری کےبعد انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہونا آئینی ضرورت ہے، انتخابات 2018 نئی ووٹرلسٹوں اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہونے چاہییں، نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق حکومت 10 نومبرتک فیصلہ کرلے۔

اجلاس کےبعد میڈیا بریفنگ میں اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام رہنما قیادتوں سے مشاورت کرکے آئے تھے، اتفاق رائےایک بات پرہےکہ الیکشن تاخیرکا شکار نہ ہوں جب کہ یہ اتفاق رائے ہےکہ1998 کی مردم شماری کے مطابق قانونی پیچیدگیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل لے جانا چاہتی ہے، کچھ ارکان کی رائے ہے کہ پارلیمنٹ زیادہ بالادست فورم ہے، حکومت اب اتفاق رائے پیدا کرے۔

شیخ رشید ناراض ہوکر چلے گئے

دوران اجلاس شیخ رشید ناراض ہوکر باہر چلے گئے جہاں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میٹنگ مکمل ناکام ہوگئی، یہ ہمیں ڈراتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ رہا ہے، میری اچکزئی سے لڑائی ہوئی ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس 63 بندے کم ہیں، دوتہائی کے لیے 228 بندے چاہییں، (ن) لیگ 88 بندوں کی پارٹی ہے، اگر شام تک حکومت قرارداد نہ لاسکی تواسے مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ حکومت ناکام ہوچکی اور عوام کا اعتماد کھوچکی ہے، اجلاس میں انہیں بتایا کہ (ن) لیگ تباہ ہوچکی ہے۔

آئینی ترمیم کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا، شاہ محمود

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کی بیل چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی، لگتا ہے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہیں ہوں گے اور (ن) لیگ کورم بھی پورا نہیں کرسکتی لہٰذا ترمیم کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا، جب یہ ناکام ہوجائیں گے تو پھرہوسکتا ہے ہم کوئی حل دے دیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.