میرے ہو تے ہوئے کوئی مائی کا لعل کرپشن نہیں کر سکتا: عبدالمجید خان اچکزئی

81

کوئٹہ(آن لائن )پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی نے کہا کہ محکمے کے سر براہان پی اے سی کے اجلاس کو سنجیدگی سے لیں محکمہ کیو ڈی اے، محکمہ بی ڈی اے اور پی ایچ ای میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں مشینری کی مد میں9 کروڑ روپے جاری کئے گئے مگر اب تک مشینری نہیں پہنچی ہے ہم کیا سمجھے کہ مشینری کی ادائیگی ہوئی ہے لیکن مشینری نہ پہنچنا ایک سوالیہ نشان ہے بی ڈی اے کے تمام چیئرمینوں کے آڈٹ کیا جائے کہ کس کے دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے کتابوں میں تو سب کچھ ٹھیک لکھا ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہے اور اب کسی کو بھی غیر قانونی کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے میرے ہو تے ہوئے کوئی مائی کا لعل کرپشن نہیں کر سکتے جب تک ثبوت او ر ریکارڈ نہیں دیئے جا تے ہم خاموش نہیں رہ سکتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان میں محکمہ بی ڈی اے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکموں کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا، سیکرٹری پی ایچ ای ، ڈپٹی سیکرٹری خزانہ ایڈیٹر جنرل ،ڈائریکٹر جنرل اے جی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی نے اجلاس کے دوران محکمہ بی ڈی اے کی جانب سے ایڈیٹر جنرل کی جانب سے پیرا کے جواب نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پی اے سی کا اجلاس ہے کوئی سیکشن افسر یا محکمہ کا اجلاس نہیں ہے کہ جو چا ہئے وہ آپ لوگ کریں یہ سنجیدہ فور م ہے اور اس فورم پر صرف کام کے بارے میں بات کی جائے انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہے کہ محکمہ بی ڈی اے کے افسران انکوائری ، ریکوری اور ریکارڈ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اب ہم کچھ نہیں سننا چا ہتے ایک ہفتے میں تمام ریکارڈ دی جائے اور اس حوالے سے محکمہ بی ڈی اے اپنا اجلاس طلب کریں پی اے سی کے اجلاس میں ایسا کام نہیں چلے گا اور نہ ہم کرنے دینگے اگر کوئی نہیں کر سکتا تو وہ گھر چلے جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کچھ معلوم ہے کہ ترقیاتی کام کتابوں تک بہت ٹھیک ہے لیکن زمین پر حقائق کچھ نہیں ہے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو محکمہ بی ڈی اے اور محکمہ کیو ڈی اے ریکارڈ دینے میں دشواری پیدا کر رہے ہیں اگر کوئی ریکارڈ نہیں دے سکتا تو پھر ہم قانونی طریقہ اختیار کرینگے بی ڈی اے کے چیئرمین نے اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ محکمہ بی ڈی اے میں772 کنٹریکٹ ملازمین کو بر طرف کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سمری ارسال کر دی لیکن ایک صوبائی وزیر اور ایک اپوزیشن رکن نے مداخلت کی اور وہ سمری واپس ہو گئی پھر ایک اور سمری کے لئے سفارشات مرتب کئے گئے اس پر اب تک اقدامات نہیں اٹھائے گے جس پر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر بھرتیاں ہوئی ہے اور وہ کام نہیں کر تے تو ان کو برطرف نہ کرنا انتہائی افسوسناک عمل ہے اور جن لوگوں نے یہ کیا ہے اس نے ٹھیک نہیں کیا بعد میں محکمہ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کے حوالے سے اجلاس ہوا جس سے مجید خان اچکزئی نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پی اے سی کے اجلاس میں مذاق نہیں چلے گا ہمیں تفصیل دی جائے اور ایک ملین روپے کیسے سلنڈر ہوئے پی اے ایچ میں ایسا کام نہیں ہونے دینگے ہم تمام اداروں کو ٹھیک کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہے کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے محکمہ پی ایچ ایک کی جانب سے9 کروڑ روپے تین کمپنیوں کو جاری کئے گئے مگر اب تک مشینری نہیں پہنچی اور یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ پیمنٹ ہو گئی اور مشینری نہیں پہنچی جو بھی ذمہ دار ہے ان کے خلاف کا رروائی کی جائے ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.