آئندہ کی حکمت عملی کیلئے عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس جاری

15

پاکستان عوامی تحریک  کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سیاسی جماعتوں کو 17 جون کے خون شہادت نے اکھٹا کیا ہے جبکہ سانحہ ماڈل ٹاوٴن اور مجھے کیوں نکالا آج کی صورت حال سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا باہمی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں آج ایک چھت تلے جمع ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کو انسانیت کا درد ہے۔

طاہر القادری نے اپنے خطاب میں کہا نواز شریف نے ضیاء دور میں ارکان اسمبلی کو کھلی رشوت دینے کا آغاز کیا اور 1988  کے انتخابات میں غیر جمہوری ناخداوٴں کی سرپرستی میں الیکشن لڑا جبکہ سندھ، کے پی کے، بلوچستان میں کیش دے کر دھڑے خریدے میاں صاحب سیاسیت میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر آپ نے ڈالا ہے۔ آج یہ سیاسی جماعتیں اداروں اور ملک دشمنوں کے خلاف اکٹھی ہیں۔

انہوں نے سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا نواز شریف کا کردار کہاں سے جمہوری کردار ہے وہ تو چھانگا مانگا کلچر کے بانی ہیں یہ ہے ان کا نظریہ اور نواز شریف نے جمہوریت کی جڑیں کاٹیں۔

عوامی تحریک کی ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں ہونے والی اے پی سی میں پاکستان تحریک انصاف ،پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔

اے پی سی میں شرکت کے لیے تحریک انصاف کے شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، محمود الرشید، پیپلزپارٹی کے رحمان ملک، منظور وٹو، ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار، پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال اور دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہیں۔

آل پارٹیز کانفرنس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا پس منظر

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔ جس کے بعد عوامی تحریک کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس نے پنجاب حکومت کو مذکورہ انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔

ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے اور حکومت کے خلاف ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.