وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف ارکان اسمبلی کی تحریک عدم اعتماد

276

کوئٹہ:  بلوچستان میں حکومتی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ 14 منحرف اراکین اسمبلی کی جانب سے وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی گئی۔

سابق ڈپٹی اسپیکر قدوس بزنجو نے درخواست جمع کرائی جس میں حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے اراکین کے دستخط بھی ہیں۔ دستخط کرنے والوں میں قدوس بزنجو، عبدالکریم نوشیرونی، آغا رضا، خالد لانگو، طارق مگسی، میر امان اللہ نوتیزئی، سردار اختر مینگل، حمل کلمتی، خلیل الرحمن، عبدالمالک اور زمرک خان سمیت 3 خواتین اراکین اسمبلی رقیہ ہاشمی، شاہدہ روف، حسن بانو بھی شامل ہیں۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قدوس بزنجو نے درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں فنڈرز کی تقسیم اور استعمال کا طریقہ کار غیر مناسب ہے، بجٹ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرنا چاہتے تھے مگر وزیر اعلی کی یقین دہانی پر شرکت کی تاہم وزیر اعلی نے تحفظات دور نہ کئے۔ انہوں نے کہا اسپیکر اسمبلی راحیلہ درانی سے درخواست کرتے ہیں کہ ووٹنگ کے لیے جلد از جلد اسمبلی اجلاس طلب کیا جائے۔

وزیر اعلی بلوچستان نے تحریک عدم اعتماد کی درخواست کے بعد اتحادیوں کا اجلاس طلب کر لیا۔ اجلاس کا مقصد اتحادیوں کو اعتماد میں لینا ہے۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر مالک اور پشتونخواء میپ کے پارلیمانی لیڈر رحیم زیار توال بھی کوئٹہ پہنچ گئے۔ دوسرری جانب اسمبلی کے اپوزیشن جماعتوں نے بھی اجلاس طلب کر لیا۔ اجلاس میں 14 منحرف اراکین اسمبلی بھی شرکت کرئینگے۔ بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں مسلم لیگ ق کی 5، پشتونخواء میپ کی 14، نیشنل پارٹی کی 10 اور مسلم لیگ نون کی 23 نشستیں ہیں۔ مسلم لیگ نون، پشتونخواء، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق اتحادی ہیں۔ ایوان میں مجلس وحدت المسلمین کی ایک نشست ہے۔ جمعیت 8 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی بڑی جماعت ہے، اپوزیشن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی 2، نیشنل پارٹی عوامی کی 1 اور اے این پی کی ایک نشست ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی درخواست جمع کرانے والے اراکین کو اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کا ووٹ حاصل کرنا ہو گا۔ اپوزیشن اور اتحادی دونوں کی جانب سے اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کا دعوا کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.