وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

19

کوئٹہ (جنرل رپورٹر رقیب خلجی سے) وزیراعلی نواب ثنااللہ زہری نے وزارت اعلی سے استعفیٰ دے دیا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر ووزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے اپنااستعفیٰ گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ۔ذرائع نے بتایاکہ نواب ثناءاللہ زہری سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ساتھ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کے پاس پہنچے جہاں انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔واضح رہے کہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی لیکن اس سے قبل انہیں مستعفی ہونے کے مشورے دیئے گئے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز نواب ثنااللہ زہری سے ملاقات کی تھی اور انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔وزیراعظم نے صوبائی قیادت سے استفسار کیا تھا کہ سیاسی صورتحال کو اس نہج پر کیوں پہنچنے دیا گیا؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسمبلی سے ووٹ کے ذریعے عدم اعتماد کے بجائے پہلے گھر چلے جانا بہتر ہے وزیراعظم نے صوبائی قیادت کو موجودہ صورتحال میں متحد رہنے اور صوبے میں حکومتی معاملات بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان نے گورنرہاﺅس میں گورنرمحمدخان اچکزئی سے ملاقات کی اور استعفیٰ پیش کیا جس پر گورنر نے استعفیٰ قبول کرلیا۔نواب ثناءاللہ زہری نے انتہائی مختصر استعفیٰ لکھا جس میں انہوں نے کہاکہ میں آئین کے آرٹیکل 130کے شق نمبر8کے تحت استعفیٰ دے رہاہوں تاہم جس میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق گورنر بلوچستان نے استعفیٰ کی کاپی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سمیت چیف سیکرٹری اور دیگر کو بھی بھجوادی ہے جس کے بعد جلد ہی وزیراعلی کے مستعفیٰ ہونے کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے اپنے بیان میں کہاہے کہ میری خواہش ہے صوبے میں جمہوری عمل جاری رہے انہوں نے کہاکہ اقتدار سے زبردستی چمٹے رہنا میرا شیوا نہیں ہے تاہم اپنے ساتھیوں پر زبردستی مسلط نہیں ہوناچاہتا ،انہوں نے کہاکہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے صوبے کی سیاست خراب ہو ہم نے ہمیشہ جمہوری سیاست کی ہے اور آئندہ بھی جمہوری سیاست کا حصہ بن کر آگے بڑھیںگے ،انہوں نے کہاکہ کچھ دنوں سے محسوس کررہاتھاکہ میرے ساتھی اراکین میری قیادت سے خوش نہیں تھے انہوں نے کہاکہ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے اگر عوام نے مناسب سمجھا تو عوام کی خدمت جاری رکھوںگا انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت چلانا اتنا آسان نہیں ۔واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک کی تاریخ اب تک 3بار وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف عدم اعتماد کی تحریکیں جمع کرائی جاچکی ہیںان وزرائے اعلیٰ میں میر تاج محمد جمالی مرحوم، سردار اختر جان مینگل اور موجودہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ خان زہری شامل ہیں۔میر تاج محمد جمالی (مرحوم )1990ءسے 1993ءتک یعنی تین سال تک وزیراعلیٰ کے عہدے پرفائز رہے جبکہ سرداراخترجان مینگل بلوچستان کے 9ویں وزیراعلیٰ کے طور پر22فروری 1997ءسے 15جون 1998ءیعنی ایک سال 3ماہ اور 24دن وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے اور نواب ثناءاللہ زہری نے بلوچستان کے 15ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 24دسمبر 2015ءکو حلف لیا تھا 9جنوری 2018ءکو مستعفیٰ ہوگئے نواب ثناءاللہ زہری 2سال 16دن وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے پر فائز رہے ۔واضح رہے کہ میر تاج محمدجمالی اور سردار اختر جان مینگل کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع ہوئی تو وہ فوری طور پر وزارت اعلی مستعفی ہوگئے تاہم مسلم لیگ (ن)کے صوبائی صدر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ءاللہ خان زہری بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک پیش کرنے تک تحریک کا سامنا کرتے رہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.