حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کر لینا چاہیے، اپوزیشن اراکینِ اسمبلی

24

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام ہوگئی اور حکومت کو اس کا اعتراف کر لینا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہے جس میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ قصور تک محدود نہیں ہر شہر اور ہر گاؤں میں ہے اور ایسے واقعات میں تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، جس میں پنجاب حکومت ناکام ہوگئی۔

انہوں نے سوال کیا کہ کب تک مائیں اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہر جگہ جائیں گی؟ حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے عوام خود کو محفوظ سمجھیں۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محسن شاہ نواز رانجھا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے واقعات صرف قصور میں نہیں بلکہ لاڑکانہ اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں بھی ہوتے ہیں، کیا کہ ابھی تک کس نے ملزمان کو سزا دی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے کی بہتری کے لیے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور سوال کرنا چاہیے کہ اراکینِ اسمبلی نے خود کتنی مرتبہ اپنے اپنے حلقوں میں اس طرح کے واقعات کتنی مرتبہ ایسے کیسز کی پیروی کی ہو یا اس کی ایف آئی آر کے بارے میں کام کیا معلومات حاصل کی ہوں؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچوں سے ریپ کرنے والے مجرموں کو سرعام پھانسی دینی چاہیے۔

وزیر مملکت نے کہا ’ہم نے قانون سازی کی اور سزا کو بڑھایا اور بچوں کے ساتھ زیادتی کو سزا بنایا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ قصور جیسے واقعات پرناکامی ہرجگہ پر ہے تاہم قصور جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ ایسے واقعت میں عمر قید کی سزا قوم اور قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصور بچی کے قتل اور مظاہرے کے دوران 2 افراد کے قتل میں بھی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ قصور واقعے سے ظاہر ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے اور اسے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ علاقے میں 12واں واقعہ ہے اور ان تمام واقعات میں 5 ڈی این اے سیمپل میچ ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ علاقے میں ایک سلسلہ وار قاتل موجود ہے تو حکومت کیا کر رہی تھی؟ اور اس تمام تر صورتحال کے باوجود کہا جاتا ہے کہ اس مسئلے کو سیاست کا رنگ نا دیاجائے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قرارداد پاس کرنا بے معنی ہیں، بلکہ اس معاملے میں عملی کارروائی کا مطالبہ ہونا چاہیے اور کارروائی کی نگرانی ایک پارلیمانی کمیٹی کو کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قصور کے لوگوں کو پنجاب حکومت پر اعتماد ہی نہیں ہے وہ کبھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کبھی چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف دلوایا جائے۔

شیریں مزاری نے مطالبہ کیا کہ بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے حوالے سے تعلیمات دی جائیں اور میڈیا پر اس حوالے سے آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.