زینب قتل کیس کی تحقیقات میں سنسنی خیز تفصیلات سامنے آگئیں

25

قصور: کم سن زینب قتل کیس میں تفتیشی ٹیمیں کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں اور واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں تاہم تاحال قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہے ۔

قصور میں زیادتی کے قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں تفتیشی ٹیمیں کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں۔ والدین کے اعتراض پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جے آئی ٹی کے سربراہ کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جس نے زینب کے گھر اور علاقہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

تحقیقاتی اداروں نے واقعے کے روز زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد گلی سے گزرنے والے 247 افراد کو مشکوک قرار دے کر واچ لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد وہاں پانچ موبائل نمبر زیر استعمال تھے جن میں سے ایک مشکوک نمبر سے تین کالز کی گئیں، جب کہ سات بج کر پندرہ منٹ پر ایک نمبر سے مشکوک میسج کیا گیا۔

زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری ہوگئی ہے جس میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ زینب قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری ہوئی ہے جس کے مطابق مقتول محمد علی کو دو گولیاں لگیں۔

واضح رہے کہ قصور میں ہفتے کی شب 7 سالہ بچی زینب ٹیوشن جانے کے لیے گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی۔ چند روز بعد منگل کی شب کچرا کنڈی سے اس کی لاش ملی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.